حیاتِ نور

by Other Authors

Page 192 of 831

حیاتِ نور — Page 192

ور ۱۹۲ ” میری خواہش تھی کہ جناب حکیم مولوی نورالدین صاحب سے ملاقات کرتا۔لیکن مولوی صاحب از راه کرم خود اس خاکسار سے ملنے آگئے۔میں نے اُن سے تنہائی میں سوال کیا کہ مرزا صاحب سے جو آپ نے بیعت کی ہے اس میں کیا نفع دیکھا ہے۔جواب دیا کہ ایک گناہ تھا جس کو میں ترک نہیں کر سکتا تھا۔جناب مرزا صاحب سے بیعت کر لینے کے بعد وہ گناہ نہ صرف چھوٹ ہی گیا بلکہ اس سے نفرت ہوگئی۔جناب مولوی حکیم نورالدین صاحب کی اس بات کا مجھ پر ایک خاص اثر ہوا۔حکیم صاحب مجھ سے فرماتے رہے کہ قادیان چل لیکن میں نہ گیا۔محلے اور فرماتے ہیں کہ: " جناب مولوی حکیم نورالدین صاحب اگر جناب مرزا غلام احمد صاحب کی کرامات اور پیشگویوں کا ذکر کرتے تو مجھے نالائق پر کچھ اثر نہ ہوتا لیکن بات انہوں نے کہی ایسی کہ کھٹ سے دل میں لگی۔مولوی حسن علی صاحب آگے چل کر اپنے نفس کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں: اوکو نہ اندیش! جس روحانی مرض میں تو مبتلا ہے اس کی دوا تک (یعنی قادیان میں حضرت مرزا صاحب کے پاس اللہ نے تجھ کو پہنچا دیا۔جناب مولوی حکیم نورالدین صاحب ایسا بے ریا فاضل اپنا ذاتی تجربہ پیش کر کے اس دوا کا فائدہ مند ہونا بتاتا ہے۔پھر کیسی کم بختی تجھ کو آئی ہے اپنی روحانی صحت کا دشمن بن کر اندرونی پلیدی اور منافقانہ زندگی میں ڈوبار ہنا چاہتا ہے۔حضرت مولا ناراجیکی صاحب کی چند روایات حضرت مولوی غلام رسول صاحب را جیکی کا بیان ہے کہ: جب حضرت مولانا حسن علی صاحب بھاگلپوری قادیان تشریف لائے تو انہوں نے حضرت مولانا حکیم نورالدین صاحب سے دریافت کیا کہ آنجناب کو حضرت مرزا صاحب سے حسن ارادت کی سعادت کیسے نصیب ہوئی۔آپ نے فرمایا۔میں اس چودھویں صدی کے متعلق حدیث بعثت مجددین کی زد سے کسی مجدد کی بعثت کا جوش اشتیاق کے ساتھ منتظر تھا کہیں سے کسی کی آواز سنائی دے۔اس ارم