حیاتِ نور — Page 170
12+ ہے؟ اس نے کہا نزدیک ہی ہے۔میں نے کہا یہ جھوٹ کہتی ہے۔ان کی ٹھٹی (بستی ) شہر سے قریبا دو میل دور ہوگی۔مگر آپ اس کے ساتھ چل پڑے۔جب اس کے گھر پہنچے تو وہ بہت گندہ تھا۔اور اس کا لڑکا چار پائی پر گندے کپڑوں میں پڑا لیٹا ہوا کراہ رہا تھا۔آپ ایک پیڑھی پر بیٹھے۔نسخہ لکھ کر مجھے دیا کہ شہر جا کر دوا لے آؤں۔ابھی میں گیا نہیں تھا کہ ایک اور مہترانی آئی اور کہنے لگی کہ میرے لڑکے کو پیٹ درد ہوئی تھی تو میں نے لہسن کا پانی نکال کر دیا تھا جس سے اس کو آرام آ گیا تھا۔آپ نے مجھے ٹھہر جانے کو فرمایا اور لہسن منگوا کر اس کا پانی لڑکے کو پلوایا۔چنانچہ اُسے آرام آ گیا۔واپسی پر میں نے عرض کی آپ شاہی حکیم ہیں آپ کو ایسے ویسے لوگوں کے گھر نہیں جانا چاہئے۔آپ کسی امیر کے گھر جاتے تو آ کو بہت فیس ملتی۔آپ نے فرمایا کہ جتنی غربا کی فیس ملا کرتی ہے اتنی امراء کی نہیں ملتی۔اور پھر پیٹ درد کا یہ نسخہ کوئی کم فیس نہیں ہے۔دوسرا دن اتوار تھا اور آپ نے مہندی لگائی ہوئی تھی۔باہر سے اطلاع آئی کہ مہاراجہ صاحب تشریف لائے ہیں۔آپ نے مجھے فرمایا کہ مہاراجہ صاحب سے کہہ دو اگر حکم ہو تو اسی حالت میں حاضر ہو جاؤں۔مہاراجہ نے کہا۔حکیم صاحب سے کہہ دو کہ آنے کی ضرورت نہیں۔آپ پرسوں والا نسخہ تیار کر دیں۔ساتھ ہی مہاراج نے ایک تھیلی روپے کی دے دی۔جب وہ روپیہ گنا گیا تو پانچ صد تھا میں نے وہ تھیلی حضرت مولوی صاحب کی خدمت میں پیش کر دی۔آپ نے فرمایا کہ یہ کل والے مہتر لڑکے کی فیس ہے۔میں نے کہا تھا کہ اس نسخے پر پانچ روپے خرچ ہوں گے۔۵۸ احسان پر شکریہ ادا نہ کرنا مو جب خُسران ہے ایک مرتبہ آپ نے اپنے کسی دوست کو بریکار دیکھ کر اسے تجارت کی ترغیب دی۔اور اپنے پاس سے تین ہزار روپے بھی ان کو دئیے۔انہوں نے روپے لے کر کہا کہ بھلا ان میں کیا ہوسکتا ہے۔کچھ بھی نہیں ہوگا۔ان کا یہ کلمہ سنگر آپ نے فرمایا: تم کوشکر کرنا چاہئے تھا لیکن چونکہ تم نے کر ادانہیں کیا لہذاتم کو ہر گز نع نہ ہوگا۔