حیاتِ نور

by Other Authors

Page 161 of 831

حیاتِ نور — Page 161

ور 171 ہیں۔لیکن اعجاز میں ایک ایسا امرخفی ہوتا ہے کہ سچا طالب حق سمجھ جاتا ہے کہ یہ امر منجانب اللہ ہے اور منکر کو عذرات رکیکہ کرنے کی گنجائش بھی ہو سکتی ہے کیونکہ دنیا میں خدا تعالیٰ ایمان بالغیب کی حد کو تو زنا نہیں چاہتا۔جن لوگوں کا یہ خیال ہے کہ حضرت عیسی نے مردے زندہ کئے اور وہ مر دے دوزخ یا بہشت سے نکل کر کل اپنا حال سُناتے ہیں اور اپنے بیٹوں اور پوتوں کو نصیحت کرتے ہیں کہ ہم تو عذاب و ثواب کا کچھ دیکھ آئے ہیں۔ہماری گواہی مان لو۔یہ خیالات لغو ہیں۔بے شک خوارق ظہور میں آتے ہوں گے مگر اس طرح نہیں کہ دنیا قیامت کا نمونہ بن جائے۔یہی وجہ ہے کہ بعض حضرت عیسی کے منکر رہے۔اور معجزات مانگتے رہے۔حضرت عیسی نے کبھی ان کو جواب نہ دیا کہ ابھی تو کل میں نے تمہارا باپ زندہ کر کے دکھلایا تھا اور وہ گواہی دے چکا ہے کہ میں باعث نہ ماننے حضرت عیسی" کے دوزخ میں پڑا۔اگر یہ طریق معجز نمائی کا ہوتا تو پھر دنیا دنیا نہ رہتی اور ایمان ایمان نہ رہتا اور ماننے اور ایمان لانے سے کچھ بھی فائدہ نہ رہتا۔پس جیک ڈاکٹر صاحب اصول ایمان کے متعلق درخواست نہ کریں۔میری نظر۔میں ایک قسم سے وہ دفع وقت کرتے ہیں“۔ڈاکٹر صاحب موصوف کو جب اُن کے مطالبہ کا یہ معقول جواب ملا تو انہوں نے جموں میں یہ مشہور کرنا شروع کیا کہ مردہ کا زندہ کرنا میں نہیں چاہتا اور نہ خشک درخت کا ہرا ہونا یعنی بلا تخصیص کوئی فرمایا۔نشان چاہتا ہوں جو انسانی طاقت سے بالا تر ہو۔اے ظاہر ہے کہ یہ مطالبہ بالکل معقول تھا۔اس کے جواب میں حضرت اقدس نے ذیل کا اعلان شائع آج ہی کی تاریخ 1 ار جنوری ۱۸۹۲ء کو بروز دوشنبہ ڈاکٹر صاحب کی خدمت میں مکر را دعوت حق کے طور پر ایک خط رجسٹری شدہ بھیجا گیا ہے جس کا یہ مضمون ہے کہ اگر آپ بلا تخصیص کسی نشان دیکھنے پر سچے دل سے مسلمان ہونے کو تیار ہیں تو اخبارات مندرجہ حاشیہ میں حلفا یہ اقرار اپنی طرف سے شائع کرا دیں کہ میں جو فلاں ابن فلاں ساکن بلده فلاں ریاست جموں میں برعہدہ ڈاکٹری متعین