حیاتِ نور — Page 160
۱۶۰ کہ اصل مسئلہ حیات و وفات مسیح " ہے جس پر گفتگو ہونی چاہئے مگر مولوی صاحب نے نہ اس طرف آنا تھا نہ آئے۔آخر ان احباب نے کہا کہ ہم نے جو کچھ سمجھنا تھا۔سمجھ لیا۔اس کے بعد حضرت مولوی صاحب حضرت اقدس سے شرف ملاقات حاصل کرنے کے لئے لودھیانہ تشریف لے گئے کیونکہ حضور ان ایام میں لودھیانہ میں تشریف فرما تھے۔مولوی محمد حسین صاحب نے جھٹ حضرت کو تار دیا کہ آپ کا حواری بھاگ گیا ہے۔اسے واپس کردیا آپ آؤ ورنہ شکست خوردہ سمجھے جاؤ گے۔حضرت اقدس مبادلہ خیالات کی تمام کیفیت تو حضرت مولوی صاحب سے معلوم کر ہی چکے تھے۔اس کی روشنی میں مولوی صاحب کو مفصل جواب لکھوایا۔۲۸ حضرت مولوی صاحب مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کی فطرت سے واقف تھے۔اس لئے اس گفتگو سے قبل انہیں لکھ چکے تھے کہ اگر انہوں نے بحث کرنی ہے تو پرائیویٹ خط و کتابت بند کر کے علی الاعلان حضرت اقدس سے بحث کریں۔مگر لاہور کے بعض احباب حافظ محمد یوسف صاحب ضلعد ار نہر وغیرہ کے جموں پہنچ کر مجبور کرنے سے آپ لاہور تشریف لے آئے تھے اور منشی امیر الدین صاحب کے مکان پر مندرجہ بالا گفتگو ہوئی تھی۔MA ڈاکٹر جگن ناتھ جمونی کا مطالبہ نشان آسمانی ڈاکٹر جگن ناتھ جموں کے میڈیکل ڈیپارٹمنٹ میں ملازم تھے اور حضرت مولوی صاحب سے مراسم دوستانہ رکھتے تھے۔چونکہ حضرت مولوی صاحب علاوہ دلائل صداقت اسلام ان کے سامنے زندہ نشانات کا اظہار بھی فرمایا کرتے تھے۔اس لئے انہوں نے آپ کی وساطت سے کوئی نشان آسمانی دیکھنا چاہا مگر ساتھ یہ شرط عائد کر دی کہ کوئی مردہ زندہ ہو جائے یا اور کوئی مادر زاد اندھا اچھا ہو جائے“۔۲۹ غالباً ڈاکٹر صاحب نے حضرت عیسی علیہ السلام کی طرف منسوب معجزات کو مد نظر رکھ کر ایسا مطالبہ کیا ہوگا مگر چونکہ وہ کلام استعارات میں تھا جس کو ڈاکٹر صاحب نے ظاہر پرمحمول کر لیا اس لئے حضرت اقدس نے حضرت مولوی صاحب کو لکھا کہ آپ صرف یہی شرط رکھیں کہ ایسا امر ظاہر ہو کہ جو انسانی طاقتوں سے برتر ہو اور کچھ شک نہیں کہ جو امر انسانی طاقتوں سے برتر ہو وہی خارق عادت ہے مگر ڈاکٹر صاحب نے خواہ مخواہ مردہ وغیرہ کی شرطیں لگادی ہیں۔اعجازی امور اگر ایسے گھلے گھلے اور اپنے اختیار میں ہوتے تو ہم یک دن گویا تمام دنیا سے منوا سکتے