حیاتِ نور

by Other Authors

Page 150 of 831

حیاتِ نور — Page 150

۱۵۰ لودھیانہ میں اطلاع دی جائے۔بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ شاید آپ ماہ مارچ میں کشمیر کی طرف روانہ ہوں۔پس اگر یہی صورت ہو۔تو بماہ فروری کا روبار شادی بخیر و عافیت انجام پذیر ہونا چاہئے۔حضرت اقدس کے اس خط سے ظاہر ہے کہ حضرت مولوی صاحب نے تاریخ مقررہ پر بیعت کے لئے حاضر ہونے سے معذوری کا اظہار فرمایا تھا لیکن جیسا کہ بعد کے حالات بتاتے ہیں وہ معذوری رفع ہوگئی تھی اور آپ بیعت کے موقعہ پر لودھیا نہ پہنچ گئے تھے۔حضرت اقدس علیہ السلام کی لودھیانہ تشریف آوری اور سفر ہوشیار پور حضرت اقدین مارچ ۱۸۸۹ء کے پہلے عشرہ میں ہی لودھیا نہ پہنچ گئے تھے اور بیعت کے لئے تاریخ کا اعلان بھی فرما چکے تھے مگر اس اثناء میں شیخ مہر علی صاحب رئیس ہوشیار پور کے ہاں اپنے پرانے تعلقات کی بناء پر کسی شادی کی تقریب پر آپ کو جانا پڑا۔حضرت مولوی صاحب کو اس سفر کی اطلاع حضور نے مندرجہ ذیل خط میں دی۔مخدومی اخویم۔السلام علیکم ورحمتہ اللہ و بر کانت " عنایت نامہ پہنچ کر بہت خوشی ہوئی۔خدا تعالیٰ آپ میں اور آپ کی نئی بیوی میں اتحاد اور محبت زیادہ سے زیادہ کرے اور اولا دصالح بخشے۔آمین ثم آمین اگر پرانے گھر والوں نے کچھ نا مناسب الفاظ منہ سے نکالے ہیں تو آپ صبر کریں۔پہلی بیویاں ایسے معاملات میں باعث ضعف فطرت بدظنی کو انتہا تک پہنچا کر اپنی زندگی اور راحت کا خاتمہ کر لیتی ہیں۔وحدہ لاشریک ہونا خدا کی تعریف ہے مگر عورتیں بھی شریک ہرگز پسند نہیں کرتیں۔ایک بزرگ کہتے ہیں کہ میرے ہمسایہ میں ایک شخص اپنی بیوی سے بہت کچھ پختی کیا کرتا تھا۔ایک مرتبہ اس نے دوسری بیوی کرنے کا ارادہ کیا۔تب اس بیوی کو نہایت رنج پہنچا اور اس نے اپنے شو ہر کو کہا کہ میں نے تیرے سمارے دُکھ سہے مگر یہ دکھ نہیں دیکھا جاتا کہ تو میرا خاوند ہو کر اب دوسری کو میرے ساتھ شریک کرے۔وہ کہتے ہیں کہ ان کے اس کلمہ نے میرے دل پر نہایت دردناک اثر پہنچایا۔میں نے چاہا کہ اس کلمہ کے مشابہ قرآن شریف میں