حیاتِ نور — Page xvii
ـور ۱۵ اور روح مینوں میں چلا پیدا ہوتا ہے۔میں نے بھی حضور رضی اللہ عنہ کو دیکھا ہوا ہے۔وہ تصویر کبھی محو نہیں ہو سکتی، امرتسر میں جماعت کو خطاب کر رہے ہیں۔اس تقریب کے بعد میرے بڑے بھائی ڈاکٹر محمد منیر صاحب نے بیعت کی۔میں اس وقت چھوٹا تھا۔خاکسار محمد اسلم ۲۳ نومبر ۱۹۶۳ء مکرم و محترم جناب چوہدری محمد انور حسین صاحب امیر جماعت احمد یہ شیخو پوره و مبر نگران بورڈ تحریر فرماتے ہیں: مکرم شیخ عبدالقادر صاحب فاضل مربی سلسلہ عالیہ کو یہ شرف حاصل ہوا ہے۔کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی سوانح مبارک حیات طیہ“ کی تصنیف کے بعد حضرت مولانا حکیم نور الدین صاحب خلیفہ امسیح الاول رضی اللہ عنہ کی مفصل سوانح حیات لکھیں۔مجھے یہ کتاب پڑھنے کا موقع ملا ہے۔فاضل مصنف نے سید نا حضرت مولانا نورالدین رضی اللہ عنہ کی سیرت کے حالات اور واقعات ایسے دلکش، سادہ، اور لطیف پیرائے میں ترتیب دیئے ہیں۔کہ جب میں نے اس کتاب کا مطالعہ شروع کیا۔جب تک ختم نہیں ہوئی۔میں اسے اپنے سے جدا نہیں کر سکا۔کتاب نہایت محنت اور کاوش سے لکھی گئی ہے۔اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ فاضل مؤلف کو اس کی تالیف میں سینکڑوں کتابوں کا مطالعہ کرنا پڑا ہوگا۔میں یہ یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ حیات طیہ کی طرح حیات نور بھی انشاء اللہ سلسلہ کی بلند پایہ کتب میں شمار ہوگی اور ہمارے اداروں اور لائبریریوں کی زینت ہوگی۔فاضل مؤلف نے یہ بڑی عمدہ اور نفیس کتاب لکھ کر سلسلہ کی ایک بہت بڑی خدمت کی ہے۔خصوصانئی پود کے لئے تو یہ ایک بیش بہا روحانی مائدہ ہے۔جس سے انہیں کما حقہ فائدہ اٹھانا چاہئے۔میں محترم شیخ عبد القادر صاحب کو مبارکبار دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ عظیم کارنامہ سرانجام دینے کی توفیق عطا فرمائی اور دعا کرتا ہوں کہ مولا کریم انہیں آئندہ بھی بیش از پیش خدمت سلسلہ کی توفیق عطا فرمائے۔آمین! خاکسار ١٩٦٣ء محمد انور حسین ۲۷ نومبر ۱۹۶۳ء