حیاتِ نور

by Other Authors

Page xvi of 831

حیاتِ نور — Page xvi

اب اول ۱۴ ہے۔کہ مضمون میں جذت اور ندرت دونوں موجود ہیں، بے ساختہ پن ہے کوئی تصنع نہیں اور طریق اظہار خیال ایسا دل نشین کہ دل یہی چاہتا ہے کہ پڑھتے چلے جائیں۔شیخ صاحب نے کتاب میں حضرت خلیفہ المسیح اول کی مجالس کا زندہ نقشہ کھینچ کر رکھ دیا ہے، پڑھنے والا یوں محسوس کرتا ہے کہ گویا وہ خود شریک مجلس ہے اور یہ سارا واقعہ اس کا آنکھوں دیکھا ہے، ایک حد تک ماضی کو دہرانے میں وہ کامیاب رہے ہیں، اور تاثر کے اعتبار سے انہوں نے قارئین کے لئے نہایت قیمتی روحانی مواد فراہم کر دیا ہے، وہی قومیں زندہ رہتی ہیں یا زندہ کہلانے کی مستحق ہوتی ہیں، جو اپنے اسلاف کے کارناموں کو نہیں بھولتیں۔خدا کرے کہ ایسی تحریروں کی طرف زیادہ سے زیادہ توجہ ہوتی رہے اور اس قسم کی قلمی کوششوں کا سلسلہ کبھی ختم نہ ہو۔افراد جماعت کا فرض ہے کہ وہ ایسی تصانیف خرید کر مصنفوں کی حوصلہ افزائی کریں اور وہ فریضہ جو قوا انفسكم واعلیکم نارا کی شکل میں اللہ تعالیٰ نے ہر فرد پر قائم کیا ہے۔اس کی ادائیگی کی طرف متوجہ ہوں۔اللہ تعالیٰ اس تصنیف کو بنی نوع انسان کی روحانی بہبودی کا ذریعہ بنائے ، اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا عشق لوگوں کے دلوں میں پیدا کرے اور ہر فر د جماعت کو تو کل کا وہ مقام حاصل ہو جائے ، کہ ہر فرد کے متعلق یہ کہا جاسکے کہ چه خوش بودے اگر ہر یک از امت نور دیں بودے! ہمیں بودے اگر ہر دل پُر از نور یقیں بودے بشیر احمد ۲۱ نومبر ۱۹۲۳ء مکرمی و محترمی جناب قاضی محمد اسلم صاحب سابق پرنسپل گورنمنٹ کالج لاہور (حال) ہیڈ آف دکی فلاسفی ڈیپارٹمنٹ پنجاب یونیورٹی لاہور تحریر فرماتے ہیں: آپ نے کتاب ”حیات نور دیکھنے کا موقعہ دیا۔اللہ تعالیٰ جزائے خیر دے۔جلدی جلدی کئی حصے دیکھے۔نہایت دلچسپ اور دل کش۔جہاں سے بھی پڑھنا شروع کر دیا جائے ، وہیں ایسی جذب پیدا ہو جاتی ہے کہ چھوڑنے کو جی نہیں چاہتا۔آپ کا سٹائل نہایت سادہ اور دل پر اثر کرنے والا ہے، آپ نے ترتیب بھی خوب دیتی ہے۔اس کتاب کی تالیف سے ہمارے زمانے اور سارے براعظم ہند و پاکستان کی پچھلی صدی کی تاریخ کا ایک عظیم حصہ ریکارڈ میں آ گیا ہے اور سلسلہ احمدیہ کی تاریخ کا بہت بڑا باب۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کی شخصیت کے پہلو کئی ہیں۔حضور کے حالات پڑھ کر دل ، دماغ