حیاتِ نور

by Other Authors

Page 129 of 831

حیاتِ نور — Page 129

ـور ۱۲۹ ـوم فرمایا۔وہ میرے استاد ہیں۔آپ کے اس دلیرانہ جواب نے مہاراج کے دل پر بڑا ہی اثر کیا اور وہ آپ کو پہلے سے بھی زیادہ عظمت کی نگاہ سے دیکھنے لگے۔10 بعض مخلصین کا ذکر ریاست جموں میں جن لوگوں میں آپ نے محبت وسلوک کا پاک نمونہ پایا ان میں شیخ فتح محمد اور ان کا تمام کنبہ، شیخ امام الدین، شیخ علی محمد تاجر وزیر آباد مقیم جموں ، راجہ عطا محمد خاں رئیس باڑی پورہ ، راجہ فیروز الدین، راجہ قطب الدین، میاں لعل دین اور ان کے بیٹے فیروز الدین کے نام خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔مندرجہ بالا اصحاب میں سے ایک شخص کو آپ نے قوت باہ کا نسخہ زرجام عشق بنا کر دیا۔جس کے استعمال سے اسے اس قدر فائدہ ہوا کہ اس نے آپ کی اور آپ کی زوجہ محترمہ کی دعوت کی اور اس کی بیگم صاحبہ نے بڑی محبت سے آپ کی اہلیہ محترمہ کے ہاتھوں میں سونے کے موٹے موٹے کنگن ڈالے۔اور خود اس نے آپ کی خدمت میں قیمتی گھوڑے یہ اصرار پیش کئے۔11 میاں لعل دین کے بیٹے کی وفات میاں لعل دین صاحب کا ایک بیٹا فیروز الدین نام تھا۔وہ آپ سے دلی تعلق اور اخلاص اور گہری محبت رکھتا تھا۔وہ عالم شباب میں چیچک میں مبتلا ہو ا۔آپ نے اس کے علاج میں پوری کوشش کی لیکن کوئی علاج کارگر نہ ہوا۔اور وہ لڑ کا فوت ہو گیا۔فَإِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ بھیرہ کا ایک سبق آموز واقعہ ایسا ہی ایک اور واقعہ آپ نے بھیرہ کا بیان فرمایا ہے جبکہ آپ جموں سے کسی کام کے لئے بھیرہ تشریف لائے۔آپ فرماتے ہیں: میری ایک بہن تھیں۔ان کا ایک لڑکا تھا۔وہ پیچش کے مرض میں مبتلا ہوا اور مر گیا۔اس کے چند روز بعد میں آیا۔میرے ہاتھ سے انہوں نے کسی پیچش کے مریض کو اچھا ہوتے ہوئے دیکھا تو مجھ سے فرمانے لگیں۔بھائی اگر تم آجاتے تو میرا لڑکا بچ جاتا۔میں نے ان سے کہا کہ تمہارے ایک لڑکا ہوگا اور میرے سامنے پیچش کے مرض میں مبتلا ہو کر مریگا۔چنانچہ وہ حاملہ ہوئیں اور بڑا خوبصورت لڑکا پیدا ہوا۔پھر جب وہ پیچش کے مرض میں مبتلا ہوا۔ان کو میری بات یاد تھی۔مجھ سے کہنے لگیں کہ اچھا دعا ہی کرو۔میں نے کہا خدا تعالی آپ کو