حیاتِ نور — Page xiv
۱۲ جے توں میرا ہو رہیں سب جنگ تیرا ہو اللہ تعالیٰ حضرت خلیفہ اسیخ اول کے درجات میں بلندی عطا فرمائے۔آمین! اور آپ کی اس مساعی جمیلہ کو اپنی قبولیت کی سند عطا فرما کر آپ کو اپنے دین حقہ کی بیش از بیش خدمت کرنے کی توفیق وافر عطا فرمائے۔آمین اور آپ کی اولاد کو آپ کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔جو کوئی بھی آپ کی اس کتاب کو پڑھے گا۔ضرور فائدہ حاصل کرے گا اور یہ مطالعہ ہر نوع سے ہو پڑھنے کے لئے از دیا دایمان وایقان کا موجب ہوگا۔جزاكم الله احسن الجزاء في الدنيا والآخرة والسلام ١٩٦٣ء خاکسار اسد اللہ خاں ۲۰ نومبر ۳ محترم جناب ملک غلام فرید صاحب ایم۔اے حیات نور “ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: خلافت ثانیہ کے نہایت شاندار اور لمبے دور کی وجہ سے جماعت کا نوجوان طبقہ قدر تا مسیح پاک کے صدیق سید نا حضرت نور الدین اعظم رضی اللہ عنہ کی روحانی عظمت اور صدق و صفا کے اس نمونہ سے جو انہوں نے اپنے آقا علیہ السلام کے ساتھ دکھایا اور جس کی نظیر حضرت صدیق اکبر سید نا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے سوا شاید ہی کہیں ملے، بے خبر ہو رہا تھا، اور جماعت میں شدت سے اس بات کا احساس تھا، کہ آپ کی سیرت پر کوئی ایسی کتاب لکھی جائے۔جو اس کمی کو پورا کرے، سو الحمد للہ کہ مکرمی جناب مولانا شیخ عبدالقادر صاحب نے اس کمی کو نہایت احسن طریق سے پورا کر دیا ہے، آپ نے حضرت خلیفہ اسیح اول کے سوانح حیات پر ایک مبسوط کتاب ”حیات نور“ کے نام سے تصنیف فرمائی ہے۔میں نے اس کا ایک حصہ دیکھا ہے۔کتاب ایسے دلکش اور لطیف پیرائے میں لکھی گئی ہے۔کہ جب تک ان چار سو صفحات کو جو مجھے دیئے گئے تھے۔ختم نہ کر چکا۔میں اس کو اپنے سے علیحدہ نہ کر سکا۔ابھی نصف حصہ کتاب کا باقی ہے۔مگر اس کا پہلا حصہ زبان حال سے کہہ رہا ہے کہ۔قیاس کن ز گلستان من بهار مرا نے میرے اس سوال پر کہ آپ حضرت خلیفہ سے اول موم معظم ، کس پہلو سے کہتے ہیں محترم جناب ملک صاحب نے فرمایا۔اعظم سے میری مراد یہ ہے کہ "نور الدین نام کے جتنے اشخاص گزر چکے ہیں ، ان سب میں آپ کو نمایاں مقام حاصل تھا، ور نہ نعوذ باللہ من ذالک میرا یہ مطلب نہیں کہ آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یا حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بھی بڑے تھے۔مؤلف