حیاتِ نور — Page 101
دوم ریاست جموں و کشمیر میں آپ کا عہدہ جب آپ پہلے پہل ریاست جموں و کشمیر میں تشریف لے گئے۔تو آپ کو ریاست کے شاہی ب جناب حکیم فدا محمد خاں صاحب مرحوم کا اسٹنٹ مقرر کیا گیا۔مگر بعد ازاں جلد ہی مہاراجہ رنبیر سنگھ صاحب والی ریاست نے آپ کو مستقل شاہی طبیب بنا لیا۔ریاست کے تمام مدر سے اور شفا خانے بھی آپ کے ماتحت تھے۔جن کا انتظام آپ نہایت ہی عمدگی اور خوش اسلوبی کے ساتھ کرتے تھے۔آپ چونکہ حد درجہ خلیق اور منکسر المزاج تھے اور ہر کام نہایت ہی سچائی اور دیانتداری کے ساتھ سرانجام دیتے تھے اس لئے آپ کا ماتحت عملہ عموماً آپ سے خوش رہتا تھا اور انہیں آپ سے کبھی کوئی شکایت پیدا نہیں ہوتی تھی۔میاں لعل دین کی لڑکی کو زحیر کا ذب جموں میں میاں لعل الدین ایک ممتاز رئیس تھے۔ان کی لڑکی کو زحیر کا ذب ہوئی۔دیسی طبیبوں نے علاج معالجہ میں بہت کوشش کی مگر معاملہ دن بدن بگڑتا ہی گیا۔آپ کے ساتھ رئیس مذکور کو کچھ مذہبی رنج تھا۔اس لئے اس نے آپ سے علاج کروانا پسند نہ کیا لیکن جب مریضہ کی حالت خطر ناک ہو گئی تو مجبورا آپ کی طرف دوڑا۔آپ نے طب جدید سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے اسے ایک ایسا مرکب دیا جس میں پوڈ افلین تھی اور وہ تشخیص اور علاج کار گر ثابت ہوا۔اگر سو دست تھے تو گیارہ رہ گئے۔دوسرے دن بھی آپ نے وہی ترکیب استعمال کی۔جس پر رئیس مذکور نے باوجود کدورت کے آپ کو خلعت دیا اور اس کے ساتھ ایک یا رفتندی یا بومع زمین بھی تھا۔چونگی کے افسر کو قولنج شدید آپ کی طبی شہرت کو چار چاند لگانے کا دوسرا واقعہ یہ پیش آیا کہ چونگی کے افسر کو تو لنج شدید ہوا۔نصف شب کے قریب آدمی آپ کو لینے آیا۔آپ نے خیال کیا کہ شدت درد کے باعث مسہل مفید نہیں ہوتا۔اس لئے افیون، مکہوج، نوشادر کا مرکب اپنے پاس سے دیا۔جس سے اس کا تو لنج دور ہو گیا۔۲۹ راجہ موتی سنگھ کا علاج ایک مرتبہ ریاست میں شدید ہیضہ پھیلا۔مہاراجہ صاحب تبدیل آب و ہوا کے لئے با ہو نام ایک قلعہ میں تشریف لے گئے۔آپ کو بھی ساتھ جانا پڑا۔مہاراجہ کے عزیزوں میں ایک راجہ موتی سنگھ جی