حیاتِ نور

by Other Authors

Page 91 of 831

حیاتِ نور — Page 91

آپ کی قابل قدر امداد کی تفصیل اس اجمال کی یوں ہے کہ بھیرہ میں عوام نے آپ کے ساتھ کچھ فساد کیا۔جس کی بناء پر طرفین کے عمائک کے کچھ مچلکے اور ضمانتیں لئے جانے کا حکم ہوا۔آپ کو اگر چہ اس مقدمہ کے ساتھ کچھ تعلق نہ تھا۔لیکن آپ کے نام بھی وہ حکم پہنچا تھا۔سکیسر جو ضلع شاہ پور کا ایک صحت افزا مقام ہے۔وہاں جانا تھا۔وہ مقام بھیرہ سے ساٹھ میل کے فاصلہ پر ہے۔آپ کے مخالف مولوی صاحبان نے آپ کو ستانے کے لئے یہ تجویز کی کہ راستہ میں ایسے فتوے دیے جائیں جن کی بناء پر آپ کو اس لمبے سفر میں کھانے پینے کی وقتیں پیش آئیں۔آپ نے ایک تیز روگھوڑی کا انتظام کیا اور ارادہ تھا کہ اگر عصر کے وقت بھیرہ سے سوار ہوں تو صبح کے وقت سیکیسر پہنچ سکتے ہیں۔ابھی چھ کوس کے فاصلہ ہی پر گئے تھے کہ چکرم داس ایک گاؤں کے باہر سڑک پر بہت سے لوگ لاٹھیاں سنبھالے ہوئے کھڑے ہیں۔جب آپ اس مجمع کے قریب پہنچے تو پتہ چلا کہ ملک فتح خاں صاحب معہ اپنے ملازمین کے آپ کے منتظر کھڑے ہیں۔ملک صاحب موصوف کی معیت میں رات بھر سفر کر کے صبح ہوتے ہی آپ شاہ پور چھاؤنی میں پہنچے۔وہاں کے آفیسر اور منشی اور اہلکا ر سب آپ کی ملاقات کے لئے حاضر ہوئے۔ایک دو روز وہاں آرام کیا۔چار کوس کے فاصلہ پر دریائے جہلم کے پار خوشاب ایک قصبہ ہے جب وہاں پہنچے تو وہاں کے نائب تحصیلدار شیخ فضل کریم صاحب چند معززین کو ساتھ لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔دو تین روز خوشاب میں بھی لگ گئے۔وہاں سے جب سیکیسر کے لئے سوار ہوئے تو گل حسین شاہ صاحب ایک سید نے دودھ کا بھرا ہوا ایک کٹورا آپ کی خدمت میں پیش کیا۔آپ کو چونکہ دودھ اُن دنوں ہضم نہ ہوتا تھا اس لئے عذر کیا۔شاہ صاحب نے بہت افسوس سے کہا کہ اگر کسی شخص کو دودھ ہضم نہ ہوتا ہو اور وہ آپ کے پاس علاج کے لئے آئے تو آپ کیا کریں گے۔ان کی اس بات کا آپ کی طبیعت پر ایسا اثر ہوا کہ آپ نے سارا دودھ پی لیا مگر دل میں یقین تھا کہ اب یہ ہضم نہ ہو گا چنانچہ کچھ فاصلہ بعد آپ کو بہت صفراوی اجابت ہوئی۔جس کے نتیجہ میں طبیعت بالکل صاف ہوگئی۔سکیسر پہنچے تو جس سرائے میں آپ کے قیام کا انتظام کیا گیا تھا۔جب اس میں داخل ہوئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک چارپائی پر نہایت عمدہ بستر آپ کے لئے بچھا ہوا ہے اور ملک صاحب ساتھ ہی ایک چٹائی پر تشریف فرما ہیں۔ملک صاحب نے آپ سے چار پائی پر بیٹھنے کی استدعا کی۔آپ نے پہلے تو ملک صاحب کے اخلاص اور عمر میں بڑا ہونے کی وجہ سے عذر کیا۔مگر جب انہوں نے اور فرمایا کہ مصلحت اس میں ہے تو آپ چار پائی پر بیٹھ گئے۔تھوڑی دیر کے بعد کیا دیکھتے ہیں کہ ایک شخص جس کے چہرہ پر بڑا غضب تھا اندر داخل ہوا۔مگر ملک صاحب کو دیکھ کر نہ صرف اس کا سارا جوش جاتا رہا