حیاتِ نور

by Other Authors

Page 728 of 831

حیاتِ نور — Page 728

۷۲۳ کر رہے تھے، کا دروازہ کھٹکھٹایا۔پیغام دیا اور پھر آگے کو دوڑنے لگا۔مکرمی شیخ محمد اسماعیل صاحب سرساوی کے مکان پر پہنچا اور ان کو بھی حضرت نواب صاحب کی کوٹھی دار السلام پر پہنچنے کی تاکید کرتا ہوا آخر دار السلام پہنچا۔جہاں با وجود رات کے دن کا سماں دیکھا۔بستر خالی اور لوگ نوافل و تہجد میں مصروف پائے۔کوئی ایک کونے میں پڑا مشغول گریہ و بکا تھا اور کوئی دوسرے میں دست بدعا و التجا۔کوئی سجدے میں تھا تو کوئی قیام میں کسی کو رکوع میں دیکھا تو کسی کو قعدہ میں۔کوئی سحری سے فارغ ہو چکے تھے تو کوئی اس کے انتظار و انتظام میں تھے۔اس نقشہ نے مجھے پر بہت گہرا اثر کیا۔اور میں گاڑی کے وحشت کدہ کے بعد گویا ایک حصار امن و عافیت میں آن پہنچا تھا۔بڑھا اور اندرون خانہ اطلاع کی سید نا محمود جو نہ خود ہی بیدار تھے بلکہ اوروں کو بھی بیدار و ہشیار اور دعاؤں کی تاکید فرمارہے تھے۔یہ نفس نفیس تشریف لائے۔عرض حال کیا۔ساری کیفیت کہہ سنائی اور وہ ٹریکٹ پیش کیا۔حضور نے لیا۔ورق گردانی فرمائی اور سرسری نظر سے دیکھ کر ہی اس کی غرض غایت اور مفہوم و مطلب کو پاگئے احباب کو جمع کرنے کا حکم دیا۔شوریٰ طلب فرمائی اور اس ٹریکٹ ، اس سے پیدا شدہ صورت حالات پر غور و خوض اور مشورہ میں مصروف ہو گئے وہ ایام رمضان کے نہ تھے روز فعلی رکھا جارہا تھا تا استعينوا بالصبر والصلوة کی تعمیل کے ذریعہ خدا کی رضا، اس کی مرضی اور سیدھی دمستقیم راہ کے حصول کے لئے خالی الذہن اور صافی القلب، یکسو اور نفسیات سے الگ ہو کر دعائیں کی جائیں اور خدا تعالیٰ سے مدد مانگی جا سکے۔سید نا نور الدین رضی اللہ عنہ جیسی عظیم الشان ہستی ، فیض مجسم، وجود رحمت ، اور سراسر نور شخصیت سے قوم کا محروم ہو جانا کوئی معمولی نقصان نہ تھا۔حقیقت شناس اور راز دان عارف تو اسی درد اور سوز سے نہایت غمزدہ وسوگوار تھے۔نئے ٹریکٹ سے پیدا شدہ صورت حال نے رنج و غم اور مشکلات میں اور بھی اضافہ کر دیا۔پہلی مشکل کا حل، درد کا درماں ، زخم کا چارہ تو سیدنا حضرت محمود ایدہ اللہ الودود نے اپنی نیکدلی ، پاک نفسی اور بے لوث و بے غرضانہ حکمت سے پا لیا تھا۔