حیاتِ نور

by Other Authors

Page 727 of 831

حیاتِ نور — Page 727

۷۲۲ تھا۔ایک کو دوسرے کے گرانے ، دبانے اور غلبہ پانے کی کوشش میں دلائل و براہین کی بجائے رعب و تحکم اور جبر و تشدد سے بھی گریز نہ تھا اور معاملہ بعض اوقات باتوں کی بجائے لاتوں اور دھمکیوں تک جا پہنچتا تھا۔اسی رنگ میں ہمارا یہ سفر کرتا گیا۔میری طبیعت ان حالات سے بیزار تھی۔برداشت نہ کر سکی اور میں نے گہری سوچ لمبی بیچار اور دعاؤں کے بعد فیصلہ کیا کہ جس طرح ہو اس ٹریکٹ کو جلد از جلد مرکز پہنچا کر اس فتنہ و فساد کی اطلاع پہنچاؤں اور جو کچھ دیکھ اور سن رہا ہوں۔حضرت کے حضور جا کر سناؤں۔کہ کن خیالات اور ساز و سامان نیز لاؤ لشکر کے ساتھ خلافت کو مٹانے کی غرض سے وہ لوگ انڈے چلے آ رہے ہیں۔اس فیصلہ کے بعد میں نے اس ڈبے کو چھوڑا اور کسی دوسری جگہ غیروں کے اندر بیٹھ کر بٹالہ پہنچا، اسٹیشن سے اترا اور رات کے اندھیرے میں قادیان کی طرف دوڑنا شروع کیا۔باقی دوستوں نے جب تک سواری کا انتظام کیا یا پیدل چلنے والوں نے قافلہ بندی اور ساتھیوں کو جمع کیا میں کم از کم نصف راہ طے کر آیا ہوں گا۔اور جوں جوں قادیان کی مقدس بستی قریب ہوتی جاتی۔میرے جوش اور تیزی میں وفور محبت اور حل مقصود کے باعث اضافہ ہوتا جارہا تھا۔حتی کہ اللہ کریم نے اپنے فضل سے مجھے غیر معمولی سرعت سے قادیان دار الامان پہنچا دیا۔چور یا ڈاکوؤں کا خوف تو خدا تعالیٰ کے فضل سے دل میں پیدا نہ ہوا۔خیال آیا تو صرف یہ کہ مبادا مجھ کو بھا گتا ہوا چور یا ڈا کو سمجھ کر کوئی تعاقب نہ کرنے لگے کیونکہ رات کے اندھیروں میں دوڑنا بھا گنا تو درکنار خالی چلنا بھی اس سڑک پر شبہ کی نظر سے دیکھا جایا کرتا تھا۔قادیان کی مقدس بستی ، تخت گاہ رسول اور۔۔۔۔دار الخلافت کے گلی کوچوں میں سے ہوتا ہوا میں پہلے بورڈنگ مدرسہ احمدیہ کے صحن میں داخل ہوا۔جس کے ایک کوارٹر میں ان دنوں حضرت مولانا مولوی محمد سرور شاہ صاحب رہا کرتے تھے دستک دی۔سلام عرض کیا اور بہت جلد دار السلام میں پہنچنے کی تاکیدی عرض کرنے کے بعد آگے بڑھا۔محترم بزرگ حضرت عرفانی شیخ یعقوب علی صاحب تراب جو اس زمانہ میں بھی اسی نام سے معروف عرفان وسلوک کی منازل طے ـور