حیاتِ نور — Page 54
۵۴ پر کیا اجماع ہوگا ؟ فرمایا۔اچھا سبق کل پڑھیں گے۔چلو مکان پر چلیں۔جب خلوت خانہ سے نکل کر مسجد ! کے صحن میں پہنچے تو آپ نے قبلہ کی طرف اشارہ کر کے عرض کی۔حضرت ! اس کو ٹھے کی طرف لوگ سجدہ کیوں کرتے ہیں؟ فرمایا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے۔عرض کیا۔انبیاء کا اجماعی قبلہ تو بیت المقدس ہے، آپ ایک شخص کے فرمان پر اجماع انبیاء بنی اسرائیل کو کیوں چھوڑتے ہیں ؟ مولوی صاحب موصوف آپ کی اس دلیل کا جواب نہ دے سکے۔وقت گزرتا گیا۔کچھ مدت کے بعد حضرت شاہ عبد الغنی مجددی مدینہ منورہ سے مکہ معظمہ میں تشریف لائے۔قبلہ شاہ صاحب چونکہ بہت بڑے عالم تھے۔آپ کی آمد سے شہر میں دھوم مچ گئی۔آپ بھی ان کی خدمت میں پہنچے۔اور عرض کیا کہ حضرت اعتکاف کب بیٹھا جائے؟ فرمایا۔بیس کی صبح کو عرض کی۔حضرت علماء کہتے ہیں یہ اجماع کے خلاف ہے۔فرمایا۔حنفیوں میں فلاں فلاں ، شافعیوں میں فلاں، حنابلہ میں فلاں، مالکیوں میں فلاں کئی کئی آدمیوں کے نام لے کر کہا کہ ہر فرقہ میں اس میں کے بھی قائل ہیں۔آپ فرماتے ہیں: میں اس علم اور تجربہ کے قربان ہو گیا۔ایک وجد کی کیفیت طاری ہوگئی کہ کیا علم ہے۔تب وہاں سے ہٹ کر میں نے ایک عرضی لکھی کہ میں پڑھنے کے واسطے اس وقت آپ کے ساتھ مدینہ میں جاسکتا ہوں؟ ( آپ نے ) اس (میرے) کاغذ کو پڑھ کر یہ حدیث مجھے سنائی المستشار مؤتمن۔پھر فرمایا کہ تمام کتابوں سے فارغ ہو کر مدینہ آنا چاہئے۔میں نے یہ قصہ جا کر حضرت مولانا رحمت اللہ کے حضور پیش کیا اور عرض کیا کہ علم تو اس کو کہتے ہیں۔یہ بھی عرض کیا کہ ہمارے شیخ تو ڈر گئے تھے مگر حضرت شاہ عبد الغنی صاحب نے تو حرم میں بیٹھ کر ہزار ہا مخلوق کے سامنے فتویٰ دیا مگر کسی نے چوں بھی نہ کی۔فرمایا۔شاہ صاحب بہت بڑے عالم ہیں“۔اسے مدینہ طیبہ میں حضرت شاہ صاحب کی خدمت میں حاضری مکہ معظمہ میں ڈیڑھ برس کا عرصہ گزارنے کے بعد آپ مدینہ طیبہ پہنچ گئے۔حضرت شاہ عبدالغنی صاحب سے نیاز حاصل کیا۔حضرت شاہ صاحب نے آپ کو ایک علیحدہ حجرہ رہنے کے واسطے دیا۔حضرت شاہ عبدالغنی سے بیعت آپ کا حضرت شاہ عبدالغنی " سے بیعت ہونے کا واقعہ بھی عجیب ہے۔آپ فرماتے ہیں: