حیاتِ نور

by Other Authors

Page 702 of 831

حیاتِ نور — Page 702

ـور ۶۹۷ تھے۔فرمایا۔میرا دل بہت جلایا گیا۔میں اس وقت بوڑھا ہوں۔کیا یہ مجھ کو دکھ دینے اور تکلیف دینے کا وقت تھا ؟ یہ تو مجھ سے محبت کرنے کا وقت تھا۔مجھے اس وقت راضی کرنا چاہئے تھا۔فرمایا۔میری دعاؤں کو اللہ تعالی سنتا ہے اور میں خوب جانتا ہوں اور یقین رکھتا ہوں کہ میری دعا ئیں وہ سنتا اور قبول کرتا ہے۔فرمایا۔میں اس وقت رویا ہوں۔اگر میری غضب کی آنکھ ہوتی تو کھا جاتی۔۳۲ تبدیلی آب و ہوا کی تجویز ، ۲۶ فروری ۱۹۱۸ء جب حضور کی طبیعت متواتر خراب رہنے لگی تو ڈاکٹروں نے یہ تجویز کی کہ حضور کو اس مکان سے تبدیل کر کے باہر کسی کھلی جگہ میں رکھنا چاہئے۔جناب مولوی محمد علی صاحب مرحوم اور جناب مولوی صدرالدین صاحب نے اپنے دیگر دوستوں کے مشورہ سے یہ فیصلہ کیا کہ حضور کو ہائی سکول کے بورڈنگ کی اوپر کی جنوبی منزل میں لے جایا جائے۔اس کے درمیانی کمرہ میں ایک دیوار تھی۔اسے بھی نکال دیا گیا۔او پر جانے کے لئے چونکہ سیڑھیاں گول تھیںاور حضرت خلیفہ المسح الاول میٹنے کے قابل بھی نہیں تھے۔اس مشکل کو حل کرنے کے لئے انہوں نے ڈائننگ ہال کی میزوں کو اوپر نیچے رکھ کر ایک اڈہ سا بنایا تا کہ چار پائی پر اٹھا کر ان میزوں کے اڈہ پر چار چار آدمی آپ کی چار پائی کو او پر پہنچا ئیں۔اول تو اس طرح او پر پہنچانا مناسب نہیں تھا۔کیونکہ اگر خدانخواستہ کسی شخص کا ہاتھ پھسل جاتا۔تو حضور کے نیچے گرنے کا خطرہ تھا۔دوسرے وہ جگہ بھی مناسب نہیں تھی کیونکہ اس جگہ کھانے پینے کا انتظام نہیں تھا۔تیسرے ارباب اقتدار یہ چاہتے تھے کہ دروازے پر سخت قسم کا پہرہ لگا دیا جائے تا عوام الناس میں سے ا وہ تھی اور صورکو باہر ہوا کی کوئ کوئی شخص حضور کی زیارت نہ کر سکے۔پھر وہ جگہ بھی تنگ تھی اور حضور کو باہر کھلی ہوا میں نکالنے کی کوئی صورت نہ تھی۔حضور کے گھر میں چونکہ کھانے کا مناسب انتظام نہیں ہو سکتا تھا۔اس لئے کھانا حضرت نواب محمد علی خاں صاحب کے ہاں سے تیار ہو کر جایا کرتا تھا۔اس لئے مناسب یہی تھا کہ حضور کو حضرت نواب صاحب کی کوٹھی ہی پر پہنچایا جائے۔بورڈنگ ہاؤس کی بالائی منزل کے ایک کمرہ میں حضور کو بند کر دینے کے معنی سوائے اس کے اور کچھ نہیں تھے کہ حضور اور حضور کے لواحقین کو سخت تکلیف پہنچے اور جملہ احمد یوں کو اپنے امام کی زیارت سے بھی یکسر محروم کر دیا جائے۔حضرت صاحبزادہ مرزاشریف احمد صاحب کا بیان ہے کہ: کھانے کا انتظام تو پہلے ہی حضرت نواب صاحب کے گھر میں ہو چکا تھا۔