حیاتِ نور

by Other Authors

Page 697 of 831

حیاتِ نور — Page 697

۶۹۲ فنڈ میں حصہ لیتے رہے۔بچوں کی بیعت محترم محمدعبداللہ صاحب سکنہ مضلع سیالکوٹ حال پریذیڈنٹ جماعت احمد یہ نواب شاہ کا بیان ہے کہ حضرت خلیفہ المسیح الاول کی وفات سے چند ماہ قبل والدہ صاحبہ ( برکت بی بی زوجہ مولوی رحیم بخش صاحب) خاکسار کو لے کر حضرت خلیفہ المسیح کے پاس قادیان گئیں۔میرے ساتھ میرے چچا زاد بھائی مولوی محمد عبد اللہ صاحب حال سکنہ پسرور بھی تھے۔میری عمر اس وقت قریباً گیارہ سال کی تھی اور ان کی چودہ سال کی۔والدہ صاحبہ نے حضور کی خدمت میں عرض کی کہ حضور! میں ان دونوں بچوں کو بیعت کروانے کے لئے اپنے ساتھ لائی ہوں۔حضرت مولوی صاحب نے فرمایا کہ یہ ابھی بچے ہیں۔لیکن ساتھ ہی ہم دونوں کو نصیحت کی کہ چوری نہ کرنا اور جھوٹ نہ بولنا۔یہی تم دونوں کی بیعت ہے۔آپ کی ایک وصیت ۲ فروری ۱۹۱۴ء فرمایا: یہ یاد رکھو کہ میری اولاد کے لئے زکوۃ، صدقہ وخیرات، یتامیٰ و مساکین کے فنڈ سے روپیہ نہ دینا۔اللہ تعالیٰ کوئی نہ کوئی سامان پیدا کر دے گا۔تم میں سے بہت ہوں گے ان کو میری تعلیم پہنچادو۔مولوی۔۔۔۔صاحب کے واسطے چندہ ہوئے تھے۔میں بھی ڈر گیا۔جو کوئی میری سوانح لکھتا ہے وہ اس میں یہ وصیت لکھدے۔اگر بر عکس کریں تو روک دے۔میرے پاس روپیہ نہیں ہے۔میرے ذمہ جس قدر قرض تھے وہ دیدئے گئے ہیں اور جو کچھ ہیں وہ کل انشاء اللہ دے دیئے جائیں گے۔میرا باپ بھی قرض نہیں لیتا تھا۔میں بھی قرض نہیں لیتا۔یعنی میں کسی کا مقروض نہیں رہا۔میری اولاد سے کوئی تقاضا نہ کرے۔" الحمد للہ کہ آپ کے جانشین حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے آپ کے بچوں کی تعلیم اور دیگر تمام ضروریات کا خوب خیال رکھا۔فجزاہ الہ حسن الجزاء حضرت خلیفہ المسیح کی علالت اور درس قرآن یوں تو حضرت خلیفتہ المسیح الاول کی صحت کافی عرصہ سے کمزور چلی آتی تھی لیکن فروری کے دوسرے ہفتہ میں زیادہ گرنا شروع ہو گئی۔تا ہم آپ اس امر کی انتہائی کوشش فرماتے رہے کہ جب تک