حیاتِ نور

by Other Authors

Page 641 of 831

حیاتِ نور — Page 641

ـور خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ صورت حال خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے حضرت خلیفة المسح الثانی ایده اللہ بنصرہ العزیز کے عہد میں بھی جاری رہی اور اب تک جاری ہے۔اتنا فرق ضرور ہے کہ حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ کے زمانہ میں کافی عرصہ تک حضرت حافظ روشن علی صاحب روزانہ ایک پارہ کا درس ایک ہی مجلس میں یعنی ظہر اور عصر کے درمیان دیا کرتے تھے۔اور اس کی صورت بھی یہی ہوا کرتی تھی کہ آپ پہلے نہایت ہی خوش الحانی کے ساتھ ایک پارہ پڑھ جاتے تھے۔اور پھر ایک دو رکوعوں کا ترجمہ کر کے خاص خاص آیات کی تشریح بھی فرما دیا کرتے تھے۔اور بعض سوالات کے جوابات بھی حسب نجائش دیا کرتے تھے۔دو سال خاکسار راقم الحروف نے حضرت حافظ روشن علی صاحب کا درس سنا ہے۔آخری سال آپ نے ایک روز درس دیتے ہوئے فرمایا کہ سن لو! اگلے سال پتہ نہیں کون درس دیگا۔خاکسار نے آپ کے یہ الفاظ نوٹ کر لئے اور ایک لفافے میں بند کر کے رکھ لئے۔اگلے سال کے رمضان میں آپ کی بیماری کے باعث حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب نے سارے قرآن شریف کا درس دیا۔رمضان کے بعد جون ۱۹۲۹ء میں حضرت حافظ صاحب انتقال فرما گئے۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔آپ کی وفات کے بعد ۱۹۳۰ء میں بھی حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب نے سارے قرآن شریف کا درس دیا۔مگر حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے یہ محسوس کر کے کہ حضرت مولوی صاحب موصوف بہت بوڑھے ہیں۔ان کے لئے لگا تار مہینہ بھر درس دینا مشکل ہے۔یہ حکم دیا کہ آئندہ پانچ علاء چھ چھ پاروں کا درس دیا کریں اور ہر سال ان کے درس کے پارے تبدیل کر دیے جائیں۔تا چند سالوں کے اندر اندر پانچ علماء سارے قرآن مجید کا دور مکمل کرسکیں۔ظاہر ہے کہ یہ صورت بھی اپنے رنگ میں مفید ہے۔اللہ تعالیٰ کرے کہ ہمارے مرکز میں قیامت تک قرآن مجید کا درس کسی نہ کسی شکل میں جاری رہے۔آمین ثم آمین۔ایک خطرناک دشمن سے حسن سلوک محترم شیخ عبد اللطیف صاحب بٹالوی کا بیان ہے کہ ایک سکھ لڑکا جو چند سال قبل تعلیم الاسلام ہائی سکول کا طالبعلم تھا۔حضرت خلیفہ اول پر قاتلانہ حملہ کرنے کی غرض سے تہجد کے وقت حضور کے مکان پر پہنچا۔حضرت اس وقت نماز پڑھ رہے تھے۔اسے دیکھ کر سلام پھیرا اور پوچھا کہ آپ اس وقت کیسے آئے ہیں؟ ابھی اس نے کوئی جواب نہیں دیا تھا کہ گھر سے باہر ہی اس کے ہاتھ میں چھرا دیکھ کر آس پاس کے لوگ جمع ہو گئے تھے ہیں شیخ حاکم علی واضح رہے کہ ان ایام میں تہجد کے لئے اکثر احمدی اٹھ کھڑے ہوتے تھے اور عمو نا مسجد مبارک میں جا کر تمہید کی نماز پڑھا کرتے تھے۔