حیاتِ نور — Page 635
مور هش فَلَوْلَا نَفَرٌ مِنْ كُلَّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَائِفَةٌ لَيَتَفَقَّهُوا فِى الدِّينِ وَلْيَنذُرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمُ سید نا موسیٰ علیہ السلام نے سفر کیا۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کا سفر کیا۔مختصر فہرست علوم : حفظ النفس، علم اصلاح نفس، علم ابقاء النفس، علم اوامر الہیہ ونواہی النبیہ علم العقائد علم الحساب ، علم منطق ، مبادی السنہ (اردو، عربی، انگریزی) ہدایات الموسم ، ہدایات البلاد، علم علاج ، علوم طبعیہ ، علوم ریاضیه، علم تجارت، تاریخ، قانون، سیاست، پس علوم کا توازن و تفاضل۔پھر اہم نا اہم کو دیکھا جائے۔پھر ترتیب دی جائے۔ہاں اپنی دلچپسی پر بناء ہو۔جس علم سے دلچسپی نہیں۔اس کا پڑھنا تضیع اوقات ہے۔اس لئے قلب کا فتویٰ، تجربہ کاروں کا مشورہ لائڈ ہے۔غور وفکر اور عاقبت اندیشی ضروری ہے۔موانع علم بیماری مضیق الحال، سوء معرفت ، لذات ناقصه، انتقال الى الفوق قبل استحکام ماتحت ، حب مال، مختصرہ، پھر طالب علم صحیح الصدور و القلب والمعد ہ ہو۔مشورہ دضرورت اوقات اور اہم کو مقدم کرے۔ترتیب سے يَتْلُوهُ حَقَّ تِلاوَتِہ سے پڑھے۔عمدہ علوم وفنون کے بدیہی اصول پڑھ کر دلچسپی کا رنگ دیکھے۔شریف الطبع ہو۔کذب، اسراف ، غضب، شہوت، کبر ، کثرت کلام نمیمه ، غل ، نجب وکسل، فسق و فجور، جزع، مخالطت سفہاء سے بچنے والا ہو۔شاب، فارغ القلب، صحیح المزاج، محب العلم صاحب عزم و استقلال، منصف، متدین، امین، مخلص ، مطبر عن الانجاس الظاهرة والباطنہ ہو۔يُتَعَلَّمُ لِلَّهِ وَ بِاللهِ وَ فِى اللهِ عَالِماً بِوَطَائِفِ الشَّرِيعَةَ لَا يُبَاهِي وَلَا يُبَارِئُ وَ يُذَاكِرُ وَيَتَدَارَسُ وَلَا يُؤَخِّرُ شُغْلَ يَوْمٍ لِيَوْمِ اخَرَ (اس فقرہ کا ترجمہ یہ ہے کہ وہ علم سیکھے اللہ کے لئے۔اللہ کی مدد سے۔اور اللہ میں ہو کر۔شریعت کے احکام کا عالم ہو۔نہ فخر کرنے والا ہو اور نہ مقابلہ کرنے والا ہو اور دوسروں سے علمی باتیں کر کے علم کو پکا کرتا رہے۔اور علم کو بار بار پڑھتا ر ہے اور ایک دن کا کام دوسرے دن پر نہ ڈالے۔ایڈیٹر ماہر فن ، شریف الطبع ، صالح سے پڑھے علم وسیع الاخلاص ناصح ہو۔تعلیم میں فہم و طاقت کو اور نشاط طالب کو مد نظر رکھے۔عامل بالعلم ہو۔تعلیم کے طریق سے آگاہ ہو۔خلط بحث تعلیم وتعلم میں نہ ہونے پائے۔