حیاتِ نور — Page 630
۶۲۵ نے ایک نظم انگریزی میں لکھی۔جس کا ترجمہ محترم قاضی محمد اکمل صاحب نے کیا ۳ اگست ۱۹۱۳ ء کو دعوت ولیمہ ہوئی۔اسے حضرت چودھری فتح محمد صاحب سیال ایم۔اے کی لندن کو روانگی ، جون ۱۹۱۳ء جناب خواجہ کمال الدین صاحب نے چونکہ حضرت خلیفہ اسی اول کی خدمت میں بار بار کھا تھا کہ تبلیغ کے کام میں مجھے ایک معاون کی ضرورت ہے لہذا حضرت خلیفۃ المسیح اول کے ارشاد کے مطابق حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال ایم۔اے ایسے پر جوش مبلغ کو تبلیغ اسلام واحمدیت ایسے اہم فریضہ کی سرانجام دہی کے لئے لندن روانہ کیا گیا اور آپ کے سفر کے تمام اخراجات انصار الله نے برداشت کئے۔چنانچہ اگست کے دوسرے ہفتے آپ معہ شیخ نور احمد صاحب لندن پہنچ گئے۔۵۲ محترم شیخ نور احمد صاحب ایک نہایت ہی مخلص احمدی تھے۔ان کا بیان ہے کہ بچپن میں انہوں نے کسی کتاب میں حضرت بلال کا حال پڑھا۔تو بے اختیار دل سے یہ دعا نکلی کہ یا الہی ! مجھے بلال بنا دے۔نہ معلوم وہ کونسی نیک ساعت تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ دعا قبول فرمالی۔چنانچہ جب آپ لندن پہنچے تو خواجہ صاحب سے ذکر آنے پر انہوں نے کہا کہ مسجد وہ کنگ کا فیصلہ ہمارے حق میں ہونے والا ہے۔یہ سن کر شیخ صاحب موصوف کو بہت خوشی ہوئی۔چنانچہ فیصلہ ہونے کے بعد انہوں نے ور رمضان المبارک کو ظہر کی نماز کے وقت پہلی اذان دی۔ان کا اپنا بیان ہے کہ اس وقت بے اختیار میری آنکھوں سے پانی جاری تھا۔اور دل مرغ بسمل کی طرح سینہ میں تڑپ رہا تھا۔اور زبان پر یہ الفاظ جاری تھے۔الهم انصر من نصر دين محمد صلى الله علیه وسلم الہی ! اسلام کا بول بالا کر۔جو دعا ئیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیں۔اور جو دعا میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کیں اور جو دعائیں اس وقت کا موجودہ خلیفہ کر رہا ہے۔وہ سب کی سب قبول فرما۔آمین۔۵۳ حضرت خلیفۃ المسیح الاول کی ایک دعا ۲۵ / جون ۱۹۱۳ ء کو آپ شدید بخار میں مبتلا ہو گئے۔اور درجہ حرارت ۱۰۴ تک پہنچ گیا۔علالت طبیع کی وجہ سے آپ اس روز درس القرآن نہ دے سکے۔۲۶ جون کو بھی آپ کو بہت نقاہت تھی۔مگر