حیاتِ نور

by Other Authors

Page 629 of 831

حیاتِ نور — Page 629

ور ۶۲۴ علی صاحب سے لکھوائے گئے تھے۔حضرت خلیفۃ المسیح اول کو جب یہ مضامین دکھائے گئے۔تو آپ سخت ناراض ہوئے اور سیدنا حضرت محمود ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کو بلا کر آپ کو دو مضامین کے نوٹ لکھوائے۔جن میں اس بات پر خاص طور پر زور دیا گیا کہ غسلخانہ مسجد کا حصہ نہیں اور یہ کہ جو لوگ اس موقعہ پر شورش کر رہے ہیں۔وہ ملک کی پرامن فضا کو مکہ رکر کے کوئی اچھا کام نہیں کر رہے۔مگر ساتھ ہی آپ نے یہ ہدایت فرمائی کہ یہ مضامین آپ کی طرف منسوب نہ کئے جائیں۔چنانچہ جب یہ مضامین شائع ہو گئے۔تو چونکہ ان مضامین میں ”پیغام صلح کے نقطہ نگاہ سے اختلاف کیا گیا تھا۔اس لئے ان لوگوں نے یہ مشہور کرنا شروع کر دیا کہ 'الفضل' کے مضامین میں مولوی محمد علی صاحب کو گالیاں دی گئی ہیں۔چنانچہ ڈاکٹر محمد شریف صاحب بٹالوی سول سرجن جو اس وقت سرگودھا میں متعین تھے۔قادیان تشریف لے گئے اور سید نا حضرت محمود ایدہ اللہ بنصرہ العزیز سے اس امر کا ذکر کیا۔آپ نے فرمایا کہ یہ مضمون میرے لکھے ہوئے نہیں۔بلکہ حضرت خلیفتہ المسیح اول کے لکھوائے ہوئے ہیں۔وہ یہ سنکر حیران ہوئے اور کہا کہ یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ حضرت خلیفتہ المسیح اول جو مولوی محمد علی صاحب کا اسقدر احترام کرتے ہیں۔ایسے الفاظ آپ کی نسبت لکھوائیں۔آپ نے اسی وقت اخبار کا پرچہ منگوایا۔اور مضمون متعلقہ کے حاشیہ پر لکھا کہ یہ مضمون حضرت خلیفتہ المسیح اول کیا لکھوایا ہوا ہے اور جس قدر سخت الفاظ میں وہ آپ ہی کے ہیں۔میں نے اپنی طرف سے نہیں لکھے۔ڈاکٹر صاحب موصوف وہ پرچہ لے کر حضرت خلیفہ المسیح اول کی خدمت میں حاضر ہوئے۔اور چونکہ انہوں نے جلد واپس جانا تھا۔اس لئے جاتی دفعہ وہ پر چہ اپنے ایک رشتہ دار کے ہاتھ آپ کو بھجوایا۔اور کہلا بھیجا کہ آپ کی بات د ہے۔غرض کانپور کی مسجد کا واقعہ جماعت میں ایک مزید تفرقہ کا باعث بن گیا۔کیونکہ اس کے ذریعہ جماعت کے ایک فریق نے ملک کے شوریدہ سر اور انتہا پسند گروہ کا ساتھ دیا اور دوسرا فریق حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت خلیفہ مسیح اول کے مسلک پر قائم رہا۔صاحبزادہ میاں عبد ا ئی صاحب کا نکاح ، ۲۱ / جون ۱۹۱۳ء حضرت خلیفہ المسیح اول کے فرزند ارجمند صاحبزادہ میاں عبدالحی صاحب کا نکاح مؤرخہ ۲۱؍ جون ۱۹۱۳ء کو بوقت صبح حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب کی دختر فرخندہ اختر فاطمہ کبری سے بعوض دو ہزار روپیہ مہر ہوا۔فالحمد للہ علی نور تک۔۵۰ ۲ اگست ۱۹۱۳ء کو تقریب رخصتانہ عمل میں آئی۔اس موقعہ پر حضرت خلیفہ رشید الدین صاحب