حیاتِ نور

by Other Authors

Page 41 of 831

حیاتِ نور — Page 41

صاحب نے اپنے باورچی کو بلا یا اور دریافت کیا کہ اس پلاؤ میں کیا نقص ہے؟ اس نے کہا اس میں نقص تو کوئی نہیں ہاں اس کے مُرغ میں کسی قدر داغ لگ گیا تھا۔چونکہ یہ برتن بڑا ہے اور چاولوں کی مقدار زیادہ ہے میں نے وہ داغ لگا ہوا گوشت نیچے دبا دیا ہے۔منشی صاحب نے اس میں سے ایک لقمہ اُٹھا کر سونگھا مگر ان کو کچھ محسوس نہ ہوا۔وہ یہ سمجھے کہ اس نے سونگھ کر اس نقص کو محسوس کیا اور لقمہ چھوڑ دیا۔پھر انہوں نے باورچی سے کہا کہ ان تمام کھانوں میں سے سب سے عمدہ پکا ہوا کھانا کونسا ہے؟ اس نے کہا شور با جس کا پیالہ ان کے ہاتھ میں ہے۔خیر وہ شور با قریباً تمام ہی میں نے پی لیا اور وہ اس وقت میرے لئے بہت ہی مفید ہوا۔میرے ہوش و حواس اور قومی ٹھیک ہو گئے۔۵۹ قیام کا انتظام کھانے سے فارغ ہو کر منشی صاحب نے دوسرے لوگوں کو وہاں سے ہٹا دیا اور آپ سے پوچھا کہ آپ کون ہیں اور کہاں سے آئے ہیں؟ آپ نے لکھنوی لہجہ میں کہا کہ میں ایک پنجابی آدمی ہوں اور یہاں پڑھنے کے لئے آیا ہوں۔آپ فرماتے ہیں کہ یہ بات میرے لئے بہت مفید ہوئی۔منشی صاحب کو یہ گمان تھا کہ یہ کوئی آسودہ حال ، صدمہ رسیدہ اور حوادث کا پامال ہے۔پڑھنے کا یونہی نام لیا ہے ورنہ یہ خود عالم ہے۔تب انہوں نے فرمایا کہ آپ میرے پاس رہیں اور میرے ساتھ ہی کھانا کھایا کریں۔جہاں آپ کو پڑھنا ہوگا۔میں کوشش کروں گا"۔" اس کے بعد منشی صاحب نے آپ کو قیام کے لئے ایک تو شہ خانہ میں جگہ دی اور اپنے مہتم کتب خانہ کو حکم دیا کہ ان کو کسی کتاب سے مت روکو۔آپ کی اپنی کتابیں اور سامان بھی دکاندار سے منگوا دیا اور آپ وہاں رہنے لگ پڑے۔تعلیم کا انتظام آپ کی تعلیم کے لئے حضرت منشی صاحب نے حضرت مولوی عبد القیوم صاحب کو مقرر فرمایا۔مولوی صاحب موصوف سے آپ نے بخاری اور ہدا یہ دو کتابیں پڑھنا شروع کیں۔