حیاتِ نور

by Other Authors

Page 587 of 831

حیاتِ نور — Page 587

ـاتِ تُـ ـور ۵۸۲ هشت لیکن اللہ تعالیٰ سے امید کرتا ہوں کہ وہ تبلیغ کے لئے بھی کوئی نہ کوئی راہ کھول دیگا۔علاوہ ازیں کچھ اور اسباب بھی ہیں جن کا ذکر کرنا شاید مناسب نہ ہو۔جلسہ الوداع ۲۵ / ستمبر ۱۹۱۲ء چونکہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ۲۶ ستمبر کو مکہ معظمہ، مدینه منوره ، بیت المقدس اور مصر وغیرہ کے سفر کے لئے روانہ ہونے والے تھے۔اس لئے اس تقریب پر حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب اور محترم منشی چراغ الدین صاحب کی تحریک پر قادیان میں ایک الوداعی جلسہ منعقد کیا گیا۔جس میں حضرت خلیفہ المسح الاول" بھی تشریف لائے۔پہلے حضرت صوفی غلام محمد صاحب بی۔اے نے خوش الحانی سے قرآن کریم کی تلاوت کی۔بعد محترم شیخ محمود احمد صاحب عرفانی پر حضرت شیخ یعقوب علی صاحب ایڈیٹر الحکم نے جلسہ کی غرض و غایت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ مسیح کے معنی ہیں سیاحت کرنے والا۔پہلے مسیح نے بھی مصر سے لے کر تبت تک سفر کیا تھا۔اور حضرت مسیح موعود نے بھی ہند میں بہت سیاحت کی تھی۔اب صاحبزادہ صاحب بھی اسی طریق پر ایک لیے سفر پر جاتے ہیں۔صاحبزادہ صاحب ہمارے مدرسہ کے افسر بھی تھے۔اب آپ کی جگہ بھی ایک دردمند دل رکھنے والے صاحب مولوی شیر علی صاحب ہمارے افسر مقرر ہوئے ہیں۔اس کے بعد (حضرت) ماسٹر عبدالرحیم صاحب (نیر) نے سورہ فاتحہ کے بعد اپنی تقریر میں فرمایا۔حضرت خلیفہ مسیح کے ایام علالت میں ایک دن میں نے گھبرا کر بہت دعا کی تو میں نے خواب میں حضرت خلیفہ اسیح کو دیکھا کہ میاں صاحب بشیر الدین محمود احمد کو پکڑے ہوئے ہیں اور فرماتے ہیں: پہلے بھی اول تھے۔اب بھی اول ہیں۔تب سے میری طبیعت میں ایک خاص تغیر نیکی کی طرف اور میاں صاحب کے ساتھ تعلق پیدا کرنے کا ہے میاں صاحب اس پاک سرزمین مکہ اور مدینہ میں ہمارے واسطے دعا کریں اور انبیاء کے مسکن بیت المقدس میں بھی ہمارے لئے دعائیں کریں۔مصر میں موسیٰ نے فرعون کو غرق کیا تھا۔میاں صاحب بھی وہاں اپنی پاک نصائح پھیلا کر شیطان کو غرق کریں گئے"۔حضرت ماسٹر نیر صاحب کی تقریر کے بعد دو طالبعلموں جناب سالک اور دانشمند نے نظمیں