حیاتِ نور

by Other Authors

Page 586 of 831

حیاتِ نور — Page 586

۵۸۱ سماتِ نُـ کی اجازت سے اس کا یہ نسخہ عاریتاً حاصل کیا۔اور پھر بحفاظت واپس بھجوا دیا۔حضرت خلیفہ اول فرمایا کرتے تھے کہ خارجیوں کی ایک کتاب ۹۳ جلدوں میں ہے۔جو ہمارے کتب خانہ میں موجود ہے۔ایک دفعہ ایک سیاح یہاں آیا تو کہنے لگا میں استنبول وغیرہ کے کتب خانے دیکھ چکا ہوں۔میں اسے ساتھ لے گیا تو یہ کتاب دیکھ کر وہ بھی حیران رہ گیا۔ہے مجھے خوب یاد ہے جب قادیان کے زمانہ میں متعدد غیر ملکی سیاح قادیان آیا کرتے تھے تو سب سے زیادہ جو بات انہیں تعجب میں ڈالا کرتی تھی۔وہ قادیان کی لائبریری تھی۔اور وہ یہ دیکھ کر حیرت زدہ ہو جایا کرتے تھے کہ اس چھوٹے سے گاؤں میں اتنی عظیم الشان لائبریری کہاں سے آگئی۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کا مصر جانے کا ارادہ اور ممبران انصار اللہ کے نام ایک چٹھی حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے عبد الحئی صاحب عرب کے ساتھ ترقی معلومات و علوم عربیہ کی خاطر مصر جانے کا ارادہ فرمایا اور اس موقعہ پر نمبر ان انصار اللہ کے نام ایک چٹھی لکھی۔جس میں انہیں آپس میں محبت اور پیار سے رہنے کی تلقین کی اور فرمایا کہ میں نے مناسب سمجھا کہ آپ لوگوں کو جنہوں نے خاص طور پر میرے ساتھ عہد اخوۃ باندھا ہے۔یہاں سے جاتی دفعہ اپنے درددل سے آگاہ کرتا جاؤں۔شاید کسی دل میں وہ آگ جو میرے دل میں ہے کچھ اثر پیدا کرے اور وہ دین کی کمپرس حالت میں اس کی مدد کرے کیسا افسوس اور کیسے غضب کی بات ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم فداہ ابی و امی جیسے انسان کی دنیا ہتک کر رہی ہے۔قرآن شریف جیسی کتاب سے تمسخر کر رہی ہے۔اور لوگ خواب غفلت میں پڑے ہیں۔ہمارے دل کیوں مر گئے۔اور ہماری غیر تمیں کہاں گئیں۔خدارا کمر ہمت کسو۔اور اپنے اپنے رنگ میں اسلام جیسے خوشنما اور بچے مذہب کو دنیا کے سامنے پیش کر کے لوگوں سے پوچھو تو سہی کہ آخر اس میں کونسا نقص دیکھا کہ جس سے تمہیں یہ شکوک پڑ گئے“۔آخر میں فرمایا کہ میرا جانا گو بہت حد تک اپنی صحت کی درستی اور عربی کی تحقیق کے لئے ہے۔