حیاتِ نور — Page 564
۵۵۹ بخشے۔اب میں دعا کر کے ایک اینٹ رکھ دیتا ہوں پھر میرے بعد صاحبزادہ مرزا محمود احمد اور بشیر احمد اور شریف احمد اور نواب صاحب دعا کر کے ایک ایک اینٹ رکھ دیں۔یہ فرما کر آپ نے ایک اینٹ لی اور نہایت توجہ الی اللہ کے ساتھ دعا کر کے اسے ایک مقام پر رکھ دیا اور پھر صاحبزادگان نے ارشاد کے موافق اینٹیں رکھیں اور بالآ خر نواب صاحب نے رکھی اس موقعہ پر نواب صاحب کو مخاطب کر کے فرمایا کہ دامادوں کے متعلق تو بڑی بڑی بحثیں ہوئی ہیں۔اس لئے آپ ضرور دعا کر کے اینٹ رکھیں۔میں دعاؤں کا بڑا معتقد ہوں۔یہ کلمہ میاں شریف احمد کے اینٹ رکھنے پر فرمایا۔اس کے بعد آپ نے اور حاضرین نے دعا فرمائی۔بعد دعا فرمایا: جس غرض کے لئے ہم آئے تھے خدا کے فضل سے ہم اس سے فارغ ہو چکے ہیں۔اب ہم آزاد ہیں۔19 حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کی تقریر، ۱۹ / جون ۱۹۱۲ء ۹ بجے صبح ـور حضرت خلیفہ المسیح کے حکم سے ۱۶ جون ۱۹۱۲ء کی صبح 9 بجے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے جماعت احمدیہ کے خاص اجلاس میں ایک تقریر کی۔آپ کی تقریر کے بعد حضرت خلیفة المسیح مسجد میں تشریف لائے اور حضور نے بھی ایک تقریر کی۔عجیب بات یہ ہے جن آیات پر صاحبزادہ صاحب نے تقریر کی تھی انہیں پر حضرت صاحب نے بھی تقریر فرمائی۔گورنگ جدا تھا مگر یہ توار بھی کسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔جس وقت صاحبزادہ صاحب تقریر کر رہے تھے۔اس وقت حضرت خلیفہ المسیح عورتوں میں وعظ فرمارہے تھے۔والدہ عزیز عبد الحی نے بھی اس سفر میں عورتوں کے درمیان تبلیغ کا مفید اور موثر کام کیا۔حضرت خلیفہ المسیح کے دو پبلک لیکچر ہوئے۔یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ ایک ہی لیکچر دو وقتوں میں پورا ہوا۔پہل لیکچر اتوار کی شام کو ہو انگر نماز مغرب کا وقت آ جانے کی وجہ سے مکمل نہ ہوسکا اور بقیہ پیر کی