حیاتِ نور — Page 503
۴۹۹ برداشت ہے۔زندہ رہا۔تو کل کچھ اور کہونگا اور صبح فرمایا۔سورۃ اعراف کے اخیر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔قُلْ إِنَّمَا أَتَّبِعُ مَا يُوحَى إِلَيَّ مِنْ رَبِّي هَذَا بَصَائِرُ مِنْ رَّبِّكُمْ وَ هُدًى وَرَحْمَةٌ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ - وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَ انْصِتُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ۔اے نبی کریم صلعم تو کہہ میں اس وحی قرآن کے سوائے اور کسی چیز کی پیروی نہیں کرتا۔یہی لوگوں کے واسطے بصیرت تھی۔مومنوں کے واسطے تو ہدایت اور رحمت ہے۔یہی اگر کافی بھی مان لیس تو ان پر بھی رحمت ہوگی۔ڈاکٹری رپورٹ بھیجوائی: ـور حضور کی صحت سے متعلق جناب ڈاکٹر بشارت احمد صاحب نے مندرجہ ذیل رپورٹ "بدر" میں حضرت خلیفۃ المسیح کی طبیعت اس ہفتہ میں بفضلہ تعالیٰ بہت کچھ رو بصحت رہی ہے۔زخم نصف کے قریب بھر آیا ہے۔ہڈی کا صرف ایک چھوٹا سا کنارہ بر ہنہ رہ گیا ہے۔باقی سب پر انگور آ گیا ہے۔ضعف ہے مگر الحمد للہ روز بروز بتدریج طاقت آ رہی ہے۔صرف کچھ بے خوابی کی شکایت ہے اور کبھی کبھی سر میں خفیف سا درد ہو جاتا ہے۔کل سے دائیں پاؤں کے تلوے میں جلن ہوتی ہے۔جو انشاء اللہ قابل تشویش نہیں۔تین روز سے حضور تکیہ کے سہارے۔بیٹھ کر عشاء کی نماز ادا فرماتے ہیں۔یک کشف ۵ فروری ۱۹۱۱ء ۵ فروری ۱۹۱۱ و صبح فرمایا: بھی میں نے دیکھا ہے کہ اسی مقام پر کسی پرند کا مزیدار شور با کھایا ہے۔اور اس کی باریک باریک ہڈیاں پھینک دی ہیں۔جو نہی آپ نے یہ کشف سنایا۔شیخ یعقوب علی صاحب نے عرض کی۔کہ اس کو پورا کرنے کے لئے کسی پرند کا گوشت کا انتظام کیا جاوے۔یہ کہہ کر وہ اٹھے۔تا کہ صاحبزاہ مرزا شریف احمد صاحب جو کبھی کبھی ہوائی بندوق سے شکار کھیلا کرتے تھے۔انہیں عرض کریں کہ کوئی پرند