حیاتِ نور — Page 483
ـور فرمایا: کہ کیا فرماتے ہیں۔فرمایا: تم ایک فہرست حساب کی بناؤ۔کسی تفصیل کی ضرورت نہیں۔صرف ٹوٹل ہو۔جس قدر میری ادویات پر خرچ ہوا ہے۔جسقدر پٹیوں پر کپڑے کے لئے خرچ ہوا ہے۔اس کل رقم کا میزان حاصل کرو۔اور پھر میری بیوی کو کہو۔کہ جو روپیہ کپڑے میں باندھ کر دیا گیا ہے۔اس میں سے وہ تمام حساب ادا کرو“۔میرا مولیٰ مجھے دیتا ہے۔کسی انسان کا احسانمند نہیں ہو سکتا۔اس نے میری ضروریات کی کفالت کا آپ مجھ سے وعدہ کیا ہے۔جناب ایڈیٹر صاحب الحکم لکھتے ہیں: یہ بات کسی معمولی آدمی کے منہ سے نہیں نکل سکتی۔بیماری پر خرچ ہوا۔اور ایسے شخص کی علالت پر خرچ ہوا۔جس کی وجہ سے قوم رو پی دیتی ہے۔اور اس کی ضروریات ذاتی کا انصرام اس روپیہ سے اگر ہو۔تو عین رضائے الہی کا موجب ہے۔مگر نہیں۔اپنے اخراجات وہ انجمن سے لینا نہیں چاہتا۔اس ضمن میں شیخ تیمور صاحب نے پوچھا کہ نواب صاحب کے ہاں سے کچھ چوزے آئے تھے۔کیا ان کی قیمت بھی دیدوں۔فرمایا۔نواب صاحب کی بات خاص ہے۔اسے رہنے دو۔ایک امر کی وضاحت اس ضمن میں یہ بات یادرکھنے کے قابل ہے کہ حضرت خلیفہ اسے صدر انجمن کے بعض کرتا دھرتا ممبروں سے سخت ناراض تھے اور اسی وجہ سے اپ یہ پسند نہیں فرماتے تھے کہ ان کی معرفت قوم کا روپیہ آپ پر صرف ہو۔ورنہ جیسا کہ حضرت شیخ یعقوب علی صاحب نے بیان کیا ہے۔ایک شخص جو قوم کا امام ہو۔اور جس کا سارا وقت جماعت کی ترقی و بہبودی کے لئے صرف ہو رہا ہو۔اس کو حق پہنچتا ہے۔کہ قوم کا روپیہ اس پر خرچ ہو یہ نا جائز ہر گز نہیں۔چنانچہ ہم جانتے ہیں کہ جماعت کے احباب انفرادی طور پر حضور کی خدمت میں بطور نذرانہ جو کچھ بھی پیش کرتے تھے۔اسے حضور از راه نوازش قبول فرما لیا کرتے تھے۔پس اگر جماعت کا روپیہ آپ کے لئے نا جائز ہوتا۔تو آپ نذرانے کی رقمیں بھی ہرگز قبول نہ فرماتے۔اس کی مثال ایسی ہی ہے۔جیسے ایک موقعہ پر جب حضور صدر انجمن کے بعض ممبروں سے