حیاتِ نور

by Other Authors

Page 474 of 831

حیاتِ نور — Page 474

ساتواں باب حضرت خلیفہ اسیح کا گھوڑے سے گرنا بیماری سے اٹھنے کے بعد پہلا خطبہ منکرین خلافت کی پھیلائی ہوئی خلاف واقعہ باتوں کا جواب اور احمد یہ بلڈنگس میں آپ کی معرکۃ الآرا تقریر اوراحمد سی حضرت خلیفہ اسی کا گھوڑے سے گرنا ، ۱۸ نومبر ۱۹۱۰ء ۱۸ نومبر ۱۹۱۰ ء وہ تاریخی دن ہے جس میں سیدنا حضرت خلیفة المسیح اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک پیشگوئی کے مطابق حضرت نواب محمد علی خاں صاحب کی کوٹھی سے واپس تشریف لاتے ہوئے گھوڑے پر سے گر پڑے اور آپ کی پیشانی پر شدید چوٹیں آئیں۔یہ جمعہ کا روز تھا اور کسی کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ آج جمعہ کے بعد کیسا دردناک حادثہ پیش آنے والا ہے۔مگر تصرفات الہیہ کے ماتحت اس دن حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے جو خطبہ پڑھا ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے آپ کسی آنے والی گھڑی کو دیکھتے ہوئے اپنی جماعت سے الوداعی خطاب فرما رہے ہیں چنانچہ آپ نے اس روز جو کچھ فرمایا اس کے چند فقرات ملاحظہ ہوں۔فرمایا: ” میری آرزو ہے کہ میں تم میں ایسی جماعت دیکھوں جو اللہ تعالیٰ کی محبت ہو۔اللہ تعالیٰ کے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی متبع ہو۔قرآن سمجھنے والی ہو۔میرے مولیٰ نے بلا امتحان اور بغیر مانگنے کے بھی مجھے عجیب عجیب انعامات دیئے ہیں۔جن کو میں گن بھی نہیں سکتا۔وہ ہمیشہ میری ضرورتوں کا آپ ہی کفیل ہوا ہے۔وہ مجھے کھانا کھلاتا ہے اور آپ ہی کھلاتا ہے۔وہ مجھے کپڑا پہناتا ہے اور آپ ہی پہناتا ہے۔وہ مجھے آرام دیتا ہے اور آپ ہی آرام دیتا ہے۔اس نے مجھے بہت سے مکانات دیے ہیں۔بیوی بچے دیئے۔مخلص اور بچے دوست دیئے۔اتنی کتابیں دیں کہ دوسرے کی عقل دیکھ کر ہی چکر کھا جائے۔پھر مطالعہ کے لئے وقت صحت علم سامان دیا۔اب میری آرزو ہے اور میں اپنے مولیٰ پر بڑی بڑی امید رکھتا ہوں کہ وہ یہ آرزو بھی پوری کرے گا کہ تم میں سے اللہ تعالیٰ