حیاتِ نور — Page 461
ــور ۴۵۷ میں حضرت اقدس کی تقریر کروائی تھی اسی مدرسہ کے ہال میں آپ سے بھی تقریر کروائی گئی۔اس کے علاوہ سینکڑوں افراد نے جسمانی معالجات سے بھی فائدہ اٹھایا۔شہادت کی ضرورت اس لئے پیش آئی تھی کہ کوئی چھہ ماہ کا عرصہ گزرا تھا۔ایک سپاہی محمد تراب خاں نام اپنے ایک ساتھی کے ہمراہ اپنا علاج کروانے کے لئے قادیان گیا تھا۔بعد میں وہ الزام متقل میں گرفتار ہوا۔اس مقدمہ میں صفائی کی شہادت میں اس کے ساتھیوں نے آپ کا نام لکھوایا۔آپ نے ملزم کے قریب ہو کر اسے شناخت کیا اور وکلاء کے سوالات کے جواب میں جو شہادت آپ نے ادا کی۔اس کے الفاظ اختصارا یہ تھے۔الفاظ شہادت میں اس شخص کو پہچانتا ہوں۔میرے پاس علاج کے واسطے گیا تھا۔ٹھیک نہیں کہہ سکتا کہ کتنی مدت ہوئی۔چھ ماہ سے زائد عرصہ گزرا ہے۔ایک آدمی اور اس کے ساتھ تھا۔میری تشخیص کے مطابق اے مانیا تھا جسے انگریزی میں میڈیا کہتے ہیں۔جنون کی ایک قسم ہے۔اس کی علامات ہیں، مبہوت رہنا۔طبیب کے سامنے اپنا حال بیان نہ کرنا۔آنکھوں کی سفیدی میں تکدر، طبیعت میں جوش کا ہوتا ، ہفتہ عشرہ یہ وہاں رہا۔فائدہ نہیں ہوا۔میں نے کہا کہ زیادہ عرصہ ٹھہر ودیگر نہیں ٹھبر سکا۔میں دن میں ایک وقت اسے دیکھتا تھا۔چند منٹ لگتے تھے۔پھر اپنے پاس نہیں بٹھاتا تھا۔میں حضرت مرزا صاحب کا خلیفہ اول ہوں۔جماعت احمدیہ کا لیڈر ہوں۔قریبا ۴۵ سال سے حکمت کرتا ہوں۔ریاست کشمیر میں میں شاہی طبیب تھا۔وہاں قریباً ۱۵ سال رہا۔میں نے نہیں سنا کہ اس شخص نے کسی پر حملہ کیا ہو۔مجھے یاد پڑتا ہے کہ میں نے اس کو نسخہ لکھ دیا تھا۔میرے ہاں بیماروں کے لئے کوئی رجسٹر اندراج نہیں۔میں بیار کو پوری تحقیق سے دیکھتا ہوں۔سرسری طور پر کسی کو نہیں دیکھتا۔۲۵ ایک ضمنی شہادت الفاظ پوری تحقیق سے دیکھتا ہوں پر آج مورخہ 4 مارچ ۱۹۶۳ء کی صبح ہی کا واقعہ عرض کرتا در