حیاتِ نور — Page 376
۳۷۴ رحمت اللہ صاحب کی آواز آئی کہ غضب خدا کا ایک بچہ کو خلیفہ بنا کر چند شریر لوگ جماعت کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔میں چونکہ بالکل خالی الذہن تھا۔مجھے بالکل خیال نہ گزرا کہ اس بچہ سے مراد میں ہوں لیکن میں حیرت سے ان کے اس فقرہ پر سوچتا رہا۔۵۳ ـور اس کے متعلق بھی مجھے بعد میں حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ سے معلوم ہوا کہ بچہ سے انکی مراد کیا ہے اور وہ اس طرح کہ اس روز صبح کی نماز کے بعد میں بھی بعض باتیں لکھ کر حضرت خلیفہ اول کے پاس لے گیا اور گفتگو کے دوران میں میں نے ذکر کیا کہ خبر نہیں۔آج مسجد میں کیا باتیں ہو رہی تھیں کہ شیخ رحمت اللہ صاحب بلند آواز سے کہہ رہے تھے کہ ایک بچہ کی بیعت ہم کس طرح کرلیں۔ایک بچہ کی وجہ سے جماعت میں یہ تمام فتنہ ڈالا جا رہا ہے۔نہ معلوم یہ بچہ کون ہے۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ میری اس بات کو سن کر مسکرائے اور کہنے لگے تمہیں معلوم نہیں وہ بچہ کون ہے وہ تمہی تو ہو“۔خیر یہ تو ایک ضمنی بات تھی جس کا ذکر کر دیا گیا ہے۔ورنہ یہ ذکر ہورہا تھا کہ فجر کی نماز کے لئے لوگ مسجد مبارک میں حضرت خلیفہ المسح الاول کی انتظار کر رہے تھے۔آخر حضور تشریف لے آئے۔اور حضور کا تشریف لانا تھا کہ مسجد میں ایک سناٹا چھا گیا۔نماز شروع ہوئی۔حضور نے نماز میں سورہ بروج کی تلاوت فرمائی۔گروہ ساری کی ساری سوز و گداز اور خشوع و خضوع کا مجموعہ تھی مگر جب حضور نے آیت إِنَّ الَّذِينَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ لَم يَتُوبُوا فَلَهُمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَلَهُمُ عَذَابُ الْحَرِيقِ پڑھی تو اس کے بعد کی کیفیت حضرت خلیفہ اسی الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے الفاظ میں یوں ہے کہ اس وقت تمام جماعت کا عجیب حال ہو گیا۔یوں معلوم ہوتا تھا کہ گویا یہ آیت اس وقت نازل ہوئی ہے اور ہر ایک شخص کا دل خشیت اللہ سے بھر گیا اور اس وقت مسجد یوں معلوم ہوتی تھی جیسے ماتم کدہ ہے۔باوجود سخت ضبط کے بعض لوگوں کی چھینیں اس زور سے نکل جاتی تھیں کہ شاید کسی ماں نے اپنے اکلوتے بیٹے کی وفات پر بھی اس کرب کا اظہار نہ کیا ہوگا اور رونے سے تو کوئی شخص ترجمہ یعنی وہ جو مومن مردوں اور مومن عورتوں کو فتنہ میں ڈالتے ہیں اور پھر اس کام سے توبہ نہیں کرتے ان کے لئے اس فعل کے نتیجہ میں عذاب جہنم ہوگا۔اور جلا دینے والے عذاب میں وہ جتلا کئے جائیں گے۔