حیاتِ نور

by Other Authors

Page 364 of 831

حیاتِ نور — Page 364

نافرمانی کی۔اور جس نے امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی۔اور جس نے امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۔یہ وہ بلند اصول ہے جو آپ نے اتحاد ملی کے لئے قائم کیا اور جو نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔غور کر کے دیکھ لیجئے۔اس کے بغیر کوئی نظام رہ سکتا ہی نہیں۔یہی اصول تھا جس نے حضرت ابو بکر، عمر اور عثمان کے زمانہ میں مسلمانوں پر فتوحات کے دروازوں کو کھول دیا تھا۔۔۔۔وہ لوگ جس بات کو منہ سے نکالتے تھے اس پر پکے تھے۔یہ نہ تھا کہ بیعت تو کر لی کہ ہم آپ کی بات سنیں گے اور مانیں گے مگر جب حکم ہوا تو بھاگ گئے۔یہ نامردی ہے۔اس سے بہتر ہے کہ پہلے ہی علیحدہ رہے تا کہ نظام میں رخنہ اندازی نہ ہو۔وہ شخص جو بیعت کرتا ہے اور پھر بیعت کے اقرار کو پورانہیں کرتا وہ دراصل دوست نہیں دشمن ہے۔جو جماعت کے نظام کو کمزور کرتا ہے۔اور کام کو نقصان پہنچاتا ہے۔یاد رکھو کہ کوئی جہاد نظام کے بغیر نہیں ہوسکتا۔یہ ہے ہی ناممکن۔اس لئے ہمارا سب سے پہلا فرض ہے کہ نظام قائم کریں اور یہ وہی اصول ہے جس پر نبی کریم صلعم نے نظام کو قائم کیا۔مگر پھر کہتا ہوں کہ نظام کی بنیاد ایک ہی بات پر ہے کہ اسمعوا و اطیعوا۔سنو اور اطاعت کرو۔جب تک یہ روح نہ پیدا ہو جائے۔جب تک تمام افراد جماعت ایک آواز پر حرکت میں نہ آجائیں۔جب تک تمام اطاعت کی سطح پر نہ آ جائیں۔ترقی محال ہے۔اس خطبہ کو پڑھ کر قارئین کرام خود فیصلہ کر لیں کہ جناب مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے اور انکی پارٹی جب حضرت مولوی نورالدین صاحب کو خلیفہ المسیح مان کر اور یہ اقرار کر کے کہ ہم آپ کا حکم اسی طرح مانیں گے جس طرح وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مانا کرتے تھے۔آپ کے خلاف منصوبے سوچا کرتے اور آپ کی پوزیشن کو گرانے کی مذموم کوشش کیا کرتے تھے۔اس وقت صحیح مسلک پر گامزن تھے۔یا اس خطبہ کے پڑھتے وقت؟ خلافت کو مٹانے کی کوشش گزشتہ صفحات میں تو اصولی طور پر اس امر پر بحث کی گئی ہے کہ آیا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریرات اور ارشادات کی روشنی میں حضور کے بعد خلافت کی ضرورت ثابت ہوتی ہے یا ـور