حیاتِ نور

by Other Authors

Page 363 of 831

حیاتِ نور — Page 363

ـور طبع اور پراگندہ خیال ہو جائے۔وھذ اخلف پھر اس تحریر میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہندوؤں کے ساتھ یہ معاہدہ بھی کرتے ہیں کہ اگر پیغام صلح والے معاہدے کی احمدیوں کی طرف سے خلاف ورزی ہو تو احمدی لوگ تاوان کی رقم ہند و صاحبوں کو دیں گے لیکن اگر ہندو اس معاہدے کو توڑیں تو وہ تاوان کی رقم سلسلہ احمدیہ کے پیشرو کی خدمت میں پیش کریں گے اور چونکہ معاہدہ ہمیشہ کے لئے ہندوؤں کے ساتھ کیا جانے والا تھا اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہی مذہب تھا کہ آپ کی جماعت میں ہمیشہ کوئی نہ کوئی پیشرو ہونا چاہئے۔اور پیشرو فارسی لفظ ہے جس کے معنے امام کے ہیں۔انجمنیں یا جماعتیں پیشر و یا امام نہیں کہلا سکتیں۔امیر یا خلیفہ یا پیشرو ہمیشہ افراد ہوتے ہیں، جماعت نہیں ہوا کرتی۔اور یہ بات شائع ومتعارف ہے کہ جس قدرز در امامت اور امارت پر اسلام نے دیا ہے اور کسی مذہب نے نہیں دیا۔نماز نہیں ہو سکتی جب تک کسی کو امام بنا کر آگے کھڑا نہ کیا جائے۔دو تین مسلمان اکٹھے ہو کر سفر نہیں کر سکتے جب تک اپنے میں سے کسی کو امیر مقرر نہ کر لیں۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تو اطاعت امیر کی اس قدر تاکید فرمائی ہے کہ جو شخص امیر کی اطاعت نہیں کرتا اسے اپنانا فرمان قرار دیا ہے۔چنانچہ فرمایا۔من اطاع امیری فقد اطاعنی و من عصی امیری فقد عصانی۔یعنی جس نے میرے مقرر کردہ امیر کی اطاعت کی اس نے گویا میری اطاعت کی اور جس نے میرے مقرر کردہ امیر کی نافرمانی کی۔اس نے گویا میری نافرمانی کی۔بلکہ میں کہتا ہوں کہ بغیر امیر کے کوئی جماعت تھوڑ اعرصہ بھی نہیں چل سکتی۔چنانچہ حضرت خلیفہ المسیح الاول کی وفات کے بعد لاہوری فریق نے مرکز احمدیت سے الگ ہو کر جب اپنا مرکز لاہور میں بنالیا تو چند دنوں کے بعد ہی وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ جب تک جماعت کا کوئی امیر مقرر نہ کیا جائے۔اکیلی انجمن کام نہیں چلا سکتی۔چنانچہ انہوں نے مولوی محمد علی صاحب کو اپنا امیر مقرر کیا۔اب عجیب بات ہے کہ وہ شخص جو کل تک اپنا سارا زور اس امر پر صرف کرتا تھا کہ حضرت مسیح موعود نے اپنا جانشین انجمن کو قرار دیا ہے اور کسی فرد واحد کو قرار نہیں دیا، اسے پے در پے اس امر پر خطبات پڑھنے پڑے کہ جب تک تم لوگ میری اسی طرح اطاعت نہیں کرو گے جس طرح صحابہ کرام نے حضرت ابوبکر عمر اور عثمان کی اطاعت کی تھی ، ترقی نہیں کر سکو گے۔چنانچہ آپ اسی مضمون پر ایک خطبہ دیتے ہوئے فرماتے ہیں: ایک اور حدیث میں ہے۔آپ نے فرمایا۔جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی۔اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ تعالیٰ کی