حیاتِ نور

by Other Authors

Page 18 of 831

حیاتِ نور — Page 18

اب اول IA والد صاحب نے مجھ کو عربی تعلیم کے حصول کے لئے تاکید فرمائی۔مولوی احمد دین صاحب جو جگے والے قاضی صاحب کے نام سے مشہور تھے۔میرے اُستاد ہوئے۔وہ میرے بھائیوں کے بھی اُستاد تھے مگر ان کو جامع مسجد کے بنانے کی ایسی فکر لگی ہوئی تھی کہ ایک جگہ ٹھہرنا اُن کے لئے محال تھا۔میں ایک سال اُن کے ہمراہ سفر و حضر میں رہا۔کچھ عربی زبان کی معمولی درسی کتابیں نہایت تکلیف سے پڑھیں اور تنگ آکر اپنے بھائی مولوی سلطان احمد صاحب سے کہا وہ مجھے لاہور لائے اور حکیم محمد بخش اور چند اور اساتذہ کے سپرد کر کے بھیرہ تشریف لے گئے۔۳۳ اے کاش! کہ مولوی صاحب موصوف کو کسی طرح اس بات کا علم ہو جاتا کہ جس انسان کے پڑھانے پر وہ ایک مسجد کی تعمیر کو ترجیح دے رہے ہیں اس نے مسیح الزمان کے خدام میں شامل ہو کر ایک لا زوال عزت اور شہرت حاصل کرنا ہے اور قرآن وحدیث سے ایک دنیا کو روشناس کرانا ہے تو وہ یقیناً مسجد کا کام چھوڑ کر آپ کو پڑھانے میں نہ صرف فخر محسوس کرتے بلکہ سعادت دارین کا سامان بھی مہیا فرمالیتے۔رسمی عقیدہ کا اثر غالباً انہی مولوی صاحب کا ذکر کرتے ہوئے آپ ایک جگہ فرماتے ہیں: ہمارے ایک اُستاد مولوی تھے۔ہم پڑھنے کے لئے اُن کے ساتھ پھرا کرتے تھے وہ ایک علاقے میں گئے۔کسی کی چوری کی بھینسیں واپس کرانی تھیں۔ہم سب انکے ساتھ تھے۔انہیں دن وہاں مقیم رہے۔گاؤں والوں نے کہا بھینسیں یہاں نہیں ہیں۔ہر چند کوشش کی مگر نہیں ملیں۔آخر ایک دوسرے طالبعلم نے مجھ سے کہا کہ بھینسیں تو آج شام سے پہلے یہاں آجائیں گی۔میں نے کہا کہ کس طرح؟ کہا کہ ان لوگوں کا عقیدہ ہے کہ جہاں کوئی قریشی اذان کہتا ہے وہ بستی ویران ہو جاتی ہے۔آج دائرہ (چوپال) کے سامنے چل کر میں کہوں گا۔آج ہی ! تم کہنا آج نہیں! چنا نچہ ہم نے ایسا ہی کیا۔ایک شخص دوڑا ہوا آیا۔اس طالب علم نے دریافت کرنے پر جواب دیا کہ یہ ہمارا ساتھی قریشی ہے اور اب اذان دینے کا ارادہ ہے۔وہ یہ سن کر دوڑ ا ہوا واپس گیا اور ہم سے کہتا گیا کہ ذرا