حیاتِ نور — Page 344
مس نہیں کہ خلیفہ ایک ہی شخص ہو بلکہ ایک جماعت بھی ہو سکتی ہے۔الا اور وہ فقرہ یہ ہے: چونکہ انجمن خدا کے مقرر کردہ خلیفہ کی جانشین ہے اس لئے انجمن کو دنیا داری کے رنگوں سے بکلی پاک رہنا ہوگا اور اس کے تمام معاملات نہایت صاف اور انصاف پر مبنی ہونے چاہئیں۔منکرین خلافت الجمن کے حق میں اور خلافت کے خلاف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک تحریر اس مضمون کی بھی پیش کیا کرتے ہیں کہ ایک موقعہ پر حضور نے تحریر فرمایا: ” میری رائے تو یہی ہے کہ جس امر پر انجمن کا فیصلہ ہو جائے کہ ایسا ہونا چاہئے اور کثرت رائے اس میں ہو جائے تو وہی امر صحیح سمجھنا چاہئے اور وہی قطعی ہونا چاہئے لیکن اس قدر میں زیادہ لکھنا پسند کرتا ہوں کہ بعض دینی امور میں جو ہماری خاص اغراض سے تعلق رکھتے ہیں مجھ کو محض اطلاع دی جائے۔اور میں یقین رکھتا ہوں کہ یہ انجمن خلاف منشاء میرے ہرگز نہیں کرے گی۔لیکن صرف احتیاطاً لکھا جاتا ہے کہ شاید وہ ایسا امر ہو کہ خدا تعالیٰ کا اس میں کوئی خاص ارادہ ہو۔اور یہ صورت صرف میری زندگی تک ہے اور بعد میں ہر ایک امر میں صرف اس انجمن کا اجتہاد کافی ہوگا۔" مرزا غلام احمد عفی عنہ ۲۷ اکتوبر ۳۶۱۹۰۷ اس کے جواب میں عرض ہے کہ ہر امر کا فیصلہ پیش آمدہ واقعات کو سامنے رکھ کر کیا جاتا ہے۔یہاں واقعہ یہ بیان کیا جاتا ہے کہ 19 ء کے موسم سرما میں انجمن نے افسر تعمیرات حضرت میر ناصر نواب صاحب کے سپر د مسجد مبارک کی توسیع کا کام کیا۔انجمن کی رائے یہ تھی کہ پہلی مسجد کا نشان باقی نہیں رہنا چاہئے مگر حضرت میر صاحب پہلی مسجد کا نشان قائم رکھنا چاہتے تھے چنانچہ آپ نے حضرت اقدس کے مشورہ سے اپنی رائے کے مطابق تعمیر کے کام کو پایہ تکمیل تک پہنچایا۔انجمن کے بعض ممبر حضرت میر صاحب کے اس اقدام پر بہت جزبز ہوئے اور اُن کی طرف سے جناب مولوی محمد علی صاحب حضرت اقدس کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ حضورا اگر انجمن کے فیصلوں کی یہی قدر ہوتی ہے تو پھر انجمن کی ضرورت ہی کیا ہے؟ ساتھ ہی کہا کہ حضرت میر صاحب ہماری شکائتیں کرتے رہتے ہیں اور حضور ان سے متاثر ہو جاتے ہیں۔حضور نے فرمایا کہ مولوی صاحب! اول تو میر