حیاتِ نور

by Other Authors

Page 322 of 831

حیاتِ نور — Page 322

حضرت اقدس کو لاہور جانا پڑا۔جہاں حضور کا وصال ہو گیا۔پھر تو ساری جماعت ہی حضرت خلیفہ المسیح الاول کی غلام بن گئی۔اس بات کا ذکر کرتے ہوئے آپ نے ۲۶ دسمبر ۱۹۹۸ء کو جلسہ سالانہ کی تقریر میں فرمایا: یہ کارڈ کا مضمون میں نے محمود کو دیا کہ ذرا ابا کو دکھا دو۔انہوں نے کہا۔اس سے بہتر اور کیا کام ہو سکتا ہے۔چودہ سو کارڈ چھاپے گئے تھے اور میرا خیال تھا کہ اتنے احباب میرے ہو گئے تو میں حضرت صاحب سے دعا کراؤں گا کہ ہم پر وہ فیضان ہو جو اجتماع پر موقوف ہے۔مگر میرے مولیٰ کو میرے دل کی تڑپ کا حال معلوم تھا۔میں چودہ سو چاہتا تھا مگر خدا نے مجھے کئی چودہ سو خلص احباب دیئے اور میری وہ حالت ہوگئی جو تم دیکھتے ہوں۔۱۲۷ اسی طرح خطبہ عید الفطر 1909ء میں فرمایا: حضرت صاحب کے زمانے میں میں نے چودہ سو کارڈ چھپوائے تھے کہ چودہ سو آدمیوں کی جماعت ہو کر ہم حضرت صاحب سے بیعت کریں گے اور اس فضل سے حصہ لیں گے جو جماعت سے مختص تھا۔خدا نے خلوص نیت کو نوازا۔اور چودہ سوسے کئی لاکھ اس جماعت کو بنا دیا۔اب ضرورت ہے اس جماعت میں اتفاق اتحاد اور وحدت کی اور وہ موقوف ہے خلیفہ کی فرماں برداری پر۔۱۳۸ قادیان میں فنانشل کمشنر کی آمد ۲۱ / مارچ ۱۹۰۸ء سر جیمز ولسن فنانشل کمشنر پنجاب جب ڈپٹی کمشنر گورداسپور اور اپنے پرائیویٹ سیکریٹری کے ہمراہ ۲۱ / مارچ ۱۹۰۸ء کو قادیان پہنچے تو کچھ نو جوان تو پیشوائی کے لئے ایک میل آگے گھوڑوں پر سوار ہو کر گئے تھے۔اور باقی دوست استقبال کے لئے لائن میں کھڑے تھے۔لائن میں سب سے اول نمبر پر حضرت مولوی صاحب تھے اور دوسرے نمبر پر حضرت نواب محمد علی خاں صاحب۔حضرت مولوی صاحب کا جب فنانشل کمشنر سے تعارف کرایا گیا تو حضرت مولانا نے فرمایا کہ آپ سے میری ملاقات اپنے ضلع شاہ پور میں ہوئی تھی۔جبکہ آپ وہاں ڈپٹی کمشنر تھے۔کمشنر صاحب نے اس امر کی تصدیق کی۔بعد ازاں ڈپٹی کمشنر صاحب نے شہر جا کر حضرت مولوی صاحب کے مطب کا بھی معائنہ کیا اور آپ کی سادگی کو دیکھ کر بہت متاثر ہوئے۔