حیاتِ نور

by Other Authors

Page 261 of 831

حیاتِ نور — Page 261

چهـ حضرت اقدس کی اطاعت کا نمونہ گزشتہ صفحات میں احباب متعدد مرتبہ یہ امر ملاحظہ فرما چکے ہوں گے کہ حضرت مولوی صاحب حضرت اقدس کی اس حد تک اطاعت کیا کرتے تھے کہ حضور کے احکام تو الگ رہے حضور کے اشاروں پر عمل کرنا جزو ایمان سمجھتے تھے۔چنانچہ جن ایام میں حضور اعجاز اسیح اور بعض دیگر کتب کی تصنیف میں مصروف تھے۔ان ایام میں کئی ماہ تک ظہر و عصر کی نمازیں جمع ہوتی رہیں۔جب جمع صلوۃ کے عمل پر دو ماہ کا عرصہ گزر چکا تو مولوی محمد احسن صاحب امروہی نے جو ہماری جماعت کے ایک مشہور عالم تھے۔حضرت مولوی نورالدین صاحب کی خدمت میں لکھا کہ بہت دن نمازیں جمع کرتے گزر گئے ہیں لوگ اعتراض کریں گے تو ہم کیا جواب دیں گے۔حضرت مولوی صاحب نے جواب دیا کہ حضور ہی سے پوچھئے میں تو ایسی جرات نہیں کر سکتا۔حضرت منشی ظفر احمد صاحب کو جب اس امر کا علم ہوا تو انہوں نے حضرت اقدس کی خدمت میں اس کا ذکر کر دیا۔اس وقت تو حضور خاموش رہے۔لیکن اسی روز مغرب کی نماز کے بعد حضور نے خفگی کے عالم میں جمع صلوٰۃ کے نشان پر ایک پر جوش تقریر فرمائی۔جس کے دوران میں فرمایا کہ تم بہت سے نشانات دیکھ چکے ہو اور حروف تہجی کے طور پر اگر ایک نقشہ تیار کیا جائے تو کوئی حرف باقی نہیں رہے گا کہ اس میں کوئی نشان نہ آویں تریاق القلوب میں بہت سے نشان جمع کئے گئے ہیں اور تم نے اپنی آنکھوں سے پورے ہوتے دیکھے۔اب وقت ہے کہ تمہارے ایمان مضبوط ہوں اور کوئی زلزلہ اور آندھی تمہیں ہلا نہ سکے۔بعض تم میں سے ایسے بھی صادق ہیں کہ انہوں نے کسی نشان کی اپنے لئے ضرورت نہیں سمجھی۔گو خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے ان کو سینکڑوں نشان دکھا دیئے لیکن اگر ایک بھی نشان نہ ہوتا تب بھی وہ مجھے صادق یقین کرتے اور میرے ساتھ رہتے۔چنانچہ مولوی نورالدین صاحب کسی نشان کے طالب نہیں ہوئے۔انہوں نے سنتے ہی آمنا کہہ دیا اور فاروقی ہو کر صدیقی عمل کر لیا۔لکھا ہے کہ حضرت ابو بکر شام کی طرف گئے ہوئے تھے واپس آئے تو راستہ میں ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دعوی نبوت کی خبر پہنچی۔وہیں انہوں نے تسلیم کر لیا۔حضرت مولوی صاحب تو عقیدت اور ارادت کے پکے تھے ہی۔حضور کی اس پر معارف تقریر