حیاتِ نور — Page 196
ـور ۱۹۶ ارم ہی اکتفا فر ماتے تھے۔حضرت خلیفہ المسح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے ایک مرتبہ اس کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: حضرت خلیفة المسیح الاول رضی اللہ عنہ کی عادت تھی کہ جب آپ بہت جوش اور محبت سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ذکر کرتے تو مرزا کا لفظ استعمال کیا کرتے اور فرماتے۔” ہمارے مرزا کی یہ بات ہے۔ابتدائی ایام سے جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے تعلقات تھے۔اس لئے اس وقت سے یہ لفظ آپ کی زبان پر چڑھے ہوئے تھے۔کئی نادان اس وقت اعتراض کیا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ حضرت مولوی صاحب کے دل میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ادب نہیں۔(حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ میں آپ کو لوگ عام طور پر مولوی صاحب یا بڑے مولوی صاحب کہا کرتے تھے ) میں نے خود کئی دفعہ یہ اعتراض لوگوں کے منہ سے سُنا اور حضرت مولوی صاحب کو اس کا جواب دیتے ہوئے بھی سُنا ہے۔چنانچہ ایک دفعہ اسی مسجد میں حضرت خلیفہ اول جبکہ درس دے رہے تھے آپ نے فرمایا۔بعض لوگ مجھے پر اعتراض کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ادب نہیں کرتا۔حالانکہ میں محبت اور پیار کی شدت کے وقت یہ لفظ بولا کرتا ہوں“۔" حضرت مولا نا راجیکی صاحب کی یہ بھی روایت ہے کہ ایک دفعہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں حضرت خلیفہ اسی الاول اپنے مطب میں تشریف رکھتے تھے۔خاکسار بھی وہاں ہی موجود تھا۔اتنے میں اتفاق سے نانا جان یعنی حضرت میر ناصر نواب صاحب والد حضرت ام المومنین رضی اللہ عنہا بھی تشریف لے آئے۔دونوں مقدسوں کے درمیان سلسله کلام شروع ہوا۔باتوں باتوں میں حضرت مولوی صاحب نے حضرت میر صاحب سے فرمایا۔میر صاحب ! ایک بات آپ سے دریافت کرنا چاہتا ہوں۔حضرت میر صاحب نے فرمایا۔فرمائیے۔آپ نے فرمایا۔میر صاحب ! آپ کو تو ہم جانتے ہی ہیں۔آپ بھی احمدیت سے پہلے اہلحدیث تھے۔اور ہم بھی لیکن