حیاتِ نور — Page 191
191 کرنا تھا۔حضرت شیخ یعقوب علی صاحب فرماتے ہیں: میں اس جلسہ میں موجود تھا۔حضرت حکیم الامت نے اللہ نور السموات والارض کے رکوع پر تقریر فرمائی۔تقریر کے ابتدائی فقرے نے حاضرین میں ایک مسرت اور انوکھے پن کی لہر پیدا کر دی۔مجھے وہ الفاظ ابھی تک یاد ہیں۔فرمایا: یہاں کچھ ایسے لوگ ہیں جو مشرقی روایات کے پابند ہیں۔کچھ ایسے نو جوان ہیں جو مغربی تہذیب و تمدن کے دلدادہ نظر آتے ہیں۔میں جو کچھ کہنا چاہتا ہوں۔اس کے متعلق قرآن حکیم کہتا ہے کہ لا شرقیۃ ولا غربیہ۔پس قران حکیم مشرق و مغرب اور ساری انسانیت کے لئے فلاح لے کر آیا ہے“۔حضرت مولوی حسن علی میر تقریر کا اثر اس تقریر کا عام اثر تو اس وقت کے منظر ہی سے معلوم ہو سکتا ہے۔مصور اور مورخ اس کو بیان نہیں کر سکتا۔مگر ہندوستان کا ایک مشہور مسلم مشنری (اسلامی واعظ ) جو اپنے اس عہد کا ایک ممتاز انسان سمجھا جاتا تھا۔اور فی الحقیقت اس نے تبلیغ اسلام کے لئے جو قربانی کی تھی وہ بے نظیر تھی ، اس قدر متاثر ہوا کہ آخر اس نے دنیا کی سب شہرتوں اور قبولیت عامہ کی تمام مسرتوں پر لات مار دی اور سلسلہ احمدیہ میں داخل ہو گیا۔اس تقریر کا ذکر اس کے اپنے الفاظ میں پڑھیئے : ۱۸۹۳ء میں انجمن حمایت اسلام کے جلسہ میں شریک ہونے کا مجھ کو اتفاق ہوا۔یہاں پر میں اس عالم مفسر قرآن سے ملا جو اپنی نظیر اس وقت سارے ہند کیا بلکہ دور دور تک نہیں رکھتا یعنی مولوی حکیم نورالدین صاحب سے ملاقات ہوئی۔میں ۱۸۸۷ء کے سفر پنجاب میں بھی حکیم صاحب ممدوح کی بڑی تعریفیں سُن چکا تھا۔غرض حکیم صاحب نے انجمن کے جلسہ میں قرآن مجید کی چند آیتیں تلاوت کر کے اُن کے معنے و مطالب کو بیان کرنا شروع کیا۔کیا کہوں اس بیان کا مجھ پر کیا اثر ہوا۔حکیم صاحب کا وعظ ختم ہوا۔اور میں نے کھڑے ہو کر اتنا کہا کہ مجھ کو فخر ہے کہ میں نے اپنی آنکھوں سے اتنے بڑے عالم اور مفسر کو دیکھا۔اور اہل اسلام کو جائے فخر ہے کہ ہمارے درمیان میں اس زمانہ میں ایک ایسا عالم موجود ہے۔ہے اور فرماتے ہیں: