حیاتِ نور

by Other Authors

Page 187 of 831

حیاتِ نور — Page 187

۱۸۷ ور نے اپنا مدعا بیان کیا۔حضور نے فرمایا۔اس میں شک نہیں کہ اگر ہم مولوی صاحب کو آگ میں کودنے یا پانی میں چھلانگ لگانے کے لئے کہیں تو وہ انکار نہ کریں گے لیکن مولوی صاحب کے وجود سے ہزاروں لوگوں کو ہر وقت فیض پہنچتا ہے۔قرآن و حدیث کا درس دیتے ہیں۔اس کے علاوہ سینکڑوں بیماروں کا ہر روز علاج کرتے ہیں ایک دنیا داری کے کام کے لئے ہم اتنا فیض بند نہیں کر سکتے۔اس دن جب عصر کے بعد درس قرآن مجید دینے لگے تو خوشی کی وجہ سے منہ سے الفاظ نہ نکلتے تھے۔فرمایا۔مجھے آج اس قدر خوشی ہے کہ بولنا محال ہے اور وہ یہ کہ میں ہر وقت اس کوشش میں لگا رہتا ہوں کہ میرا آقا مجھ سے خوش ہو جائے۔آج میرے لئے کس قدر خوشی کا مقام ہے کہ میرے آقا نے میری نسبت اس قسم کا خیال ظاہر کیا ہے کہ اگر ہم نورالدین کو آگ میں جلائیں یا پانی میں ڈبو دیں تو پھر بھی وہ انکار نہیں کریگا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جماعت کے قابل شادی لڑکوں اور لڑکیوں کی ایک فہرست تیار فرمائی تھی اور اسے آپ نہایت ہی احتیاط سے محفوظ رکھا کرتے تھے اور عموماً جو کوئی احمدی اپنی لڑکی یا لڑکے کے لئے رشتہ معلوم کرنا چاہتا۔حضور اس کے مناسب حال اسے رشتہ بتا دیا کرتے تھے اور ہر شخص حضور کے تجویز فرمودہ رشتہ کو بطیب خاطر منظور کر لیتا تھا۔مگر ایک مرتبہ جب ایک شخص کو اپنی لڑکی کا رشته کسی احمدی سے کرنے کو ارشاد فرمایا تو اس نے منظور نہ کیا۔اس پر حضور کو بہت تکلیف ہوئی اور حضور نے آئندہ کے لئے رشتہ ناطہ کے اس انتظام کوختم کر دیا۔حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب کا بیان ہے کہ: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ کے جس قدر آدمی ہیں۔سب کو حضور علیہ السلام سے اپنے اپنے طریق پر محبت تھی مگر جس قدر ادب و محبت حضور سے حضرت خلیفہ اول کو تھی۔اس کی نظیر تلاش کرنی مشکل ہے۔چنانچہ ایک دن میں حضرت مولوی صاحب کے پاس بیٹھا تھا۔وہاں ذکر ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کسی دوست کو اپنی لڑکی کا رشتہ کسی احمد ی سے کر دینے کے لئے فرمایا مگر وہ دوست راضی نہ ہوا۔اتفاقاً اس وقت مرحومہ امتہ اچھی صاحبہ بھی جو اس وقت بہت چھوٹی تھیں