حیاتِ نور — Page 181
سور IAF مشکلات نہ آئیں گے۔جس روز آپ کو ملازمت سے علیحدگی کا نوٹس ملا۔وہ ہندو پنساری آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ مولوی صاحب ! شاید آج آپ کو میری نصیحت یاد آئی ہوگی۔آپ نے فرمایا۔تمہاری نصیحت کو میں جیسا پہلے حقارت سے دیکھا تھا آج بھی ویسا ہی حقارت سے دیکھتا ہوں۔ابھی وہ آپ سے باتیں ہی کر رہا تھا کہ خزانہ سے چار سواسی روپے کی ایک رقم آپ کی خدمت میں اس چٹھی کے ہمراہ پہنچادی گئی کہ یہ آپ کی ان دنوں کی تنخواہ ہے جو اس ماہ میں سے گزر چکے ہیں۔اس پنساری نے افسروں کو گالی دے کر کہا کہ کیا نوردین تم پر نالش تھوڑا ہی کرنے لگا تھا۔ابھی وہ اپنے غصہ کو فرو نہ کرنے پایا تھا کہ ایک رانی صاحبہ نے آپ کے پاس اپنے جیب خرچ کا بہت سا روپیہ بھجوایا اور معذرت بھی کہ اس وقت ہمارے پاس اس سے زیادہ روپیہ نہیں تھا ورنہ ہم اور بھی بھجواتے۔اس روپیہ کو دیکھ کر تو اس پنساری کا غضب اور بھی بڑھ گیا۔آپ اس وقت ایک لاکھ پچانوے ہزار روپیہ کے مقروض بھی تھے اور اُسے اس قرض کا علم تھا۔اس قرض کی طرف اشارہ کر کے وہ کہنے لگا کہ بھلا یہ تو ہوا۔جن کا آپ کو قریباً دولاکھ روپید دیتا ہے وہ اپنا اطمینان کئے بغیر آپ کو کیسے جانے دیں گے۔ابھی اس نے یہ بات ختم ہی کی تھی کہ قارض کا ایک آدمی آیا اور بڑے ادب سے ہاتھ باندھ کر کہنے لگا کہ میرے پاس ابھی تار آیا ہے۔میرے آقا فر ماتے ہیں کہ ”مولوی صاحب کو تو جاتا ہے۔ان کے پاس روپیہ نہ ہو گا۔تم اُن کا سب سامان گھر جانے کا کر دو اور جس قدر روپیہ کی ان کو ضرورت ہو، دیدو، اور اسباب کو وہ ساتھ نہ لیجا سکیں تو تم اپنے اطمینان سے بحافظت پہنچو دو۔آپ نے فرمایا کہ: مجھے کو روپیہ کی ضرورت نہیں۔خزانہ سے بھی روپیہ آ گیا ہے اور ایک رانی نے بھی بھیج دیا ہے۔میرے پاس روپیہ کافی سے زیادہ ہے اور اسباب میں سب ساتھ ہی لیجاؤں گا“۔آپ فرماتے ہیں: میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ دلوں کو جانتا ہے۔ہم اس کا روپیہ انشاء اللہ جلد ہی ادا کر دیں گے۔تم ان بھیدوں کو سمجھ ہی نہیں سکتے ، ۷۵ قرض کی ادائیگی کا قصہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اسی موقعہ پر اس قرض کی ادائیگی کا قصہ بھی بیان کر دیا جائے۔محترم قرض کی ادائیگی کا ذکر کسی قدر اختلاف کے ساتھ الفضل مورحہ ۲۹ اگست ۱۹۵۴ء صفحہ ۲ میں بھی ہے لیکن ہم نے چونکہ محترم ملک صاحب سے براہ راست یہ واقعہ سنا ہے اس لئے ہم اس کو ترجیح دیتے ہیں۔مؤلف