حیاتِ نور

by Other Authors

Page 174 of 831

حیاتِ نور — Page 174

۱۷۴ آپ کی حاضر جوابی ہیں: آپ حاضر جواب بھی غضب کے تھے۔یہاں صرف ایک واقعہ کا ذکر کیا جاتا ہے۔آپ فرماتے وہاں ایک بوڑھے آدمی تھے۔انہوں نے بہت سے علوم وفنون کی حدود یعنی تعریفیں یاد کر رکھی تھیں۔بڑے بڑے عالموں سے کسی علم کی تعریف دریافت کرتے۔وہ جو کچھ بیان کرتے یہ اس میں کوئی نہ کوئی نقص نکال دیتے کیونکہ پختہ الفاظ تعریفوں کے یاد تھے۔اس طرح ہر شخص پر اپنا رعب بٹھانے کی کوشش کرتے۔ایک دن سر در بار مجھ سے دریافت کیا کہ مولوی صاحب ! حکمت کس کو کہتے ہیں؟ میں نے کہا کہ شرک سے لے کر عام بداخلاقی تک سے بچنے کا نام حکمت ہے۔وہ حیرت سے دریافت کرنے لگے کہ یہ تعریف حکمت کی کس نے لکھی ہے؟ میں نے دہلی کے ایک حکیم سے جو حافظ بھی تھے اور میرے پاس بیٹھے تھے، کہا کہ حکیم صاحب! ان کو سورۃ بنی اسرائیل کے چوتھے رکوع کا ترجمہ سنا دو جس میں آتا ہے ذَلِكَ مِمَّا اَوْحَى إِلَيْكَ رَبُّكَ مِنَ الْحِكْمَةِ - پھر تو وہ بہت ہی حیرت زدہ سے ہو گئے۔" مہاراجہ کشمیر کا آپ سے قرآن مجید پڑھنا مہاراجہ جموں و کشمیر آپ کی نیکی اور تقویٰ سے اس قدر متاثر تھے۔کہ ایک مرتبہ انہوں نے آپ سے قرآن کریم پڑھنے کی درخواست کی۔جس پر آپ نے انہیں پندرہ پارے پڑھائے۔16 نیکی کا موقعہ نکل جانے کے بعد پھر تو فیق نہیں ملتی نوجوان طالب علم اکثر موقعوں پر دینی تعلیم حاصل کرنے سے رُکتے ہیں اور دوسرے وقت پر اسے ملتوی کرتے رہتے ہیں۔یہ اچھا طریقہ نہیں۔اس سے وہ تعلیم حاصل کرنے سے بالکل محروم رہ جاتے ہیں۔اسی قسم کے ایک نوجوان کا واقعہ لکھا ہے کہ وہ آپ کے پاس رہا کرتا تھا۔آپ نے اسے بار بار قرآن کریم پڑھ لینے کی ترغیب دلائی مگر وہ ہمیشہ ہی ٹالتا رہا۔حتی کہ جب آپ کشمیر سے اپنے وطن کو تشریف لا رہے تھے تو وہ بھی ساتھ تھا۔آپ کے ڈر سے ایک حمائل شریف اس نے گلے میں لٹکائی ہوئی تھی۔ایک مقام اور ھم پور ہے۔وہاں اتر کر آپ نے نماز پڑھی۔اس مقام پر جو ڈاک ملی۔تو اس