حیاتِ نور

by Other Authors

Page xviii of 831

حیاتِ نور — Page xviii

بیان حضرت شیخ صاحب دین صاحب ڈھینڈ اسکنہ گوجرانوالہ آج مورخہ ۲۹ نومبر ۱۹۲۳ء کو گوجرانوالہ سے حضرت شیخ صاحب دین صاحب ڈھینگرو تشریف لائے ، آپ کی عمر اس وقت نوے سال سے اوپر ہے، آپ فرماتے ہیں۔کہ میں نے بیعت تو ۱۸۹ء میں کی تھی لیکن سلسلہ کے ریکارڈ میں ۱۸۹۳ء میں لکھا گیا ہے۔سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے فرمایا بہت ابتدائی زمانہ کی بات ہے۔جب حضرت مولانا نورالدین صاحب جموں سے گوجرانوالہ تشریف لائے۔تو میں نے آپ کی خدمت میں تقریر کرنے کے لئے عرض کی۔جس پر آپ نے میری درخواست منظور فرما کر مسجد کمہاراں میں تقریر فرمائی۔آپ ۱۹۰۴ء کا واقعہ یوں بیان فرماتے ہیں۔کہ جب حضرت اقدس تقریر کر کے لئے لاہور تشریف لائے۔تو جو نو جوان گھوڑوں کی بجائے حضور کی گاڑی کھینچنے کے لئے تیار ہوئے تھے ، ان میں میں بھی تھا مگر جب حضور اس پر رضا مند نہ ہوئے ، اور گھوڑے جوتے گئے۔تو میں گاڑی کے پیچھے کھڑا ہو کر چھاتہ کے ذریعہ حضور کو سایہ کر رہا تھا، میں نے حضور کی خدمت میں رقعہ لکھا تھا، کہ حضرت مولانا حکیم نورالدین صاحب کو بلا لیا جائے ، لوگ ان کے مواعظ حسنہ سے فائدہ اٹھا ئیں گے، اس پر حضور نے حضرت مولوی صاحب کو بلا لیا۔میں نے حضرت مولوی صاحب کی خدمت میں عرض کی ، کہ حضرت لوگ آپ کے مواعظ حسنہ سے مستفیض ہونا چاہتے ہیں، کچھ فرمائیے، اس پر آپ نے فرمایا۔ایک ہوتا ہے امیر اور وہ ہیں حضرت مرزا صاحب اور ایک ہوتا ہے مامور اور وہ میں ہوں، اگر حضور مجھے حکم دیں، تو میں حاضر ہوں، ورنہ میں اگر دُھت (خوانخواہ آگے آنے والا ) نہیں بننا چاہتا۔اس پر میں نے حضرت اقدس کی خدمت میں لکھا۔حضور کی طرف سے اجازت آنے پر حضرت مولوی صاحب نے وعظ بیان کرنا شروع فرما دیا۔ملتان کا واقعہ بیان کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ جب حضرت خلیفۃ المسح الاول رضی اللہ عنہ ملتان میں شہادت دینے کیلئے تشریف لے گئے تو ان ایام میں ملتان کی جماعت کا سیکرٹری میں تھا۔اس لئے حضور کی رہائش اور دیگر جملہ انتظامات کا انچارج میں ہی تھا۔نوٹ : حضرت شیخ صاحب کو بوڑھے ہیں۔لیکن بہت با ہمت آدمی ہیں۔انکم ٹیکس کے مقدمات کی پیروی کے لئے عموماً اکیلے ہی لاہور آتے جاتے ہیں، یہ امر میرے لئے باعث مسرت ہے، کہ حضرت شیخ صاحب خاکسار کی بڑی بہو کے دادا ہیں۔خاکسار عبد القادر مؤلف کتاب ہذا ۳ / دسمبر ۱۹۹۳ء