حیاتِ نور

by Other Authors

Page 159 of 831

حیاتِ نور — Page 159

۱۵۹ چکے تھے۔بہر حال حضرت مولوی صاحب نے متانت اور شائستگی سے مولوی محمد حسین صاحب کے خطوط کا جواب دیا۔مولوی محمد حسین صاحب نے حضرت اقدس کو بھی اپنی اس خط و کتابت سے مطلع کیا۔مولوی محمد حسین بٹالوی کی خواہش مباحثہ اور حضرت اقدس سے مباحثہ کی طرح ڈالنا چاہی۔حضرت اسے پسند نہیں فرماتے تھے۔کیونکہ مباحثات میں ایک طرح کی ضد پیدا ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو خوف خدا کو مد نظر رکھ کر قبول حق کے لئے تیار ہوں۔اس لئے جب مولوی صاحب نے حضور کی خدمت میں بمقام لودھیانہ مباحثہ کے لئے چٹھی لکھی تو آپ نے انہیں لکھا کہ مباحثہ تحریری ہو اور اس میں مخصوص علماء کے علاوہ ہر مذاق اور طبیعت کے افراد ہوں اور اگر مباحثہ کے بعد مباہلہ بھی ساتھ ہی ہو جائے تو بہتر رہے گا۔نیز لکھا کہ آج کل میری طبیعت چونکہ علیل رہتی ہے۔اس لئے جو تاریخ آپ مقرر کریں اس سے مجھے بھی اور اخویم مولوی نورالدین صاحب کو بھی اطلاع دیں تا اگر خدانخواستہ میری طبیعت زیادہ علیل ہو جائے تو مولوی صاحب موصوف حسب منشاء اس عاجز کے مناسب وقت کاروائی کرسکیں۔لیکن افسوس ہے کہ ان ایام میں پھر یہ مجوزہ جلسہ نہیں ہوسکا۔لاہور میں مبادلۂ خیالات کا جلسہ البتہ لاہور کے مخلصین کی ایک جماعت نے ارادہ کیا کہ حضرت مولوی نور الدین صاحب کو بلا کر مولوی عبد الرحمن صاحب لکھو کے والے سے گفتگو کرائیں گے۔جو اس وقت لاہور میں موجود تھے اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کو بھی بلا لینگے مولوی عبد الرحمن تو چلے گئے۔اس لئے یہی طے پایا کہ مولوی محمد حسین صاحب سے بالمشافہ گفتگو ہو جائے۔چنانچہ ان بزرگوں نے حضرت مولوی صاحب کو لا یا اور کوچہ کوٹھی داران میں منشی امیر الدین صاحب مرحوم کے مکان پر ایک جلسہ منعقد کیا۔جس میں مولوی محمد حسین صاحب بڑے طمطراق سے اپنے جبہ کو سنبھالتے ہوئے آئے۔(یاد رہے کہ مولوی صاحب موصوف ہمیشہ ایک دامن در از جنبہ پہنا کرتے تھے۔اور پیچھے سے اُٹھا کر ایک ہاتھ میں سنبھالے رکھتے تھے ) مبادلۂ خیالات کا آغاز مولوی محمد حسین صاحب کے چند تمہیدی سوالات سے ہوا۔جو حدیث کے مقام اور مرتبہ سے متعلق تھے۔حضرت مولوی صاحب نے فرمایا کہ میں قرآن کریم کو مقدم سمجھتا ہوں اور بخاری شریف کو اصح الکتب بعد کتاب اللہ یقین کرتا ہوں مگر مولوی صاحب کا سلسلہ کلام طوالت اختیار کرتا گیا۔جس سے ناظرین اُکتا گئے اور انہوں نے مولوی صاحب کو توجہ دلائی