حیاتِ نور — Page 158
۱۵۸ کرے تو پھر ! آپ نے فرمایا تو پھر ہم دیکھیں گے کہ کیا وہ صادق اور راستباز ہے یا نہیں۔اگر صادق ہے تو بہر حال اس کی بات کو قبول کر لیں گے۔آپ کا جواب سن کر وہ بولا واہ مولوی صاحب آپ قابوی نہ آئے۔۱۸۹۰ء کے بعض اور واقعات ۱۸۸۹ء کے اواخر یا ۱۸۹ء کے آغاز میں میر عباس علی صاحب نفث الدم کے عارضہ سے بیمار ہو گئے اور ان کو سخت تکلیف تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے حضرت مولوی صاحب کو میر صاحب کے علاج کے لئے ادویات بھیجنے کی ہدایت فرمائی۔20 کے لئے انہیں ایام میں آپ کے توسط سے ایک شخص ٹھا کر رام نے حضرت اقدس کی خدمت میں دعا کے لئے درخواست کی جس کے جواب میں حضور نے کچھ دنوں کے بعد آپ کو لکھا کہ میری طبیعت آپ کے بعد پھر علیل ہو گئی۔اب کے ریزش کے نہایت زور سے دماغ بہت ضعیف ہو گیا۔آپ کے دوست ٹھا کر رام کے لئے ایک دن بھی توجہ کرنے کا مجھے موقع نہیں ملا۔صحت کا منتظر ہوں۔اگر وہ اخلاص مند ہے تو اس کے اخلاص کی برکت سے وقت صفامل جائے گا اور صحت بھی۔" یہ مکتوب تو حضور نے یکم جنوری ۱۸۹۹ء کو لکھا تھا لیکن بعد میں بھی ایسی مصروفیات رہیں جن کی وجہ سے حضور ٹھا کر رام کے لئے دعا نہ کر سکے۔چنانچہ ۲۵ فروری 9ء کے مکتوب میں آپ فرماتے ہیں: آپ کے دوست نے اگر بے صبری نہ کی جیسا کہ آج کل لوگوں کی عادت ہے۔تو محض اللہ ان کے لئے توجہ کروں گا۔مشکل یہ ہے کہ انسان دنیا میں منعم ہو کر بہت نازک مزاج ہو جاتا ہے۔پھر ادنی ادنی انتظار میں نازک مزاجی دکھاتا ہے اور خدا تعالیٰ پر احسان رکھنے لگتا ہے اور حسن ظن سے انتظار کرنے والے نیک حالت میں ہیں۔" مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کی آپ سے خط و کتابت مولوی محمد حسین بٹالوی کو جب حضرت اقدس کے دعوے کا علم ہوا تو انہوں نے اپنی مخالفت اور اپنے اسباب اشاعت سے آپ کو بھی مرعوب کرنا چاہا۔حالانکہ وہ حضرت مولوی صاحب کے علم وفضل اور تفقہ فی الدین سے بخوبی واقف تھے۔کیونکہ اس سے قبل مسئلہ ناسخ و منسوخ میں من وجہ شکست کھا