حیاتِ ناصر — Page 7
حیات ناصر 7 کے برابر ہے اور میں اور نکاح کرنا چاہتا ہوں مجھے اللہ تعالیٰ نے الہام فرمایا ہے کہ جیسا تمہارا عمدہ خاندان ہے ایسا ہی تم کو سادات کے عالیشان خاندان میں سے زوجہ عطا کروں گا اور اس نکاح میں برکت ہوگی اور اس کا سب سامان میں خود بہم پہنچاؤں گا تمہیں کچھ تکلیف نہ ہوگی۔یہ آپ کے خط کا خلاصہ ہے بلفظہ یاد نہیں اور یہ بھی لکھا کہ آپ مجھ پر نیک فنی کر کے اپنی لڑکی کا نکاح مجھ سے کر دیں اور تا تصفیہ اس امر کو مخفی رکھیں اور رد کرنے میں جلدی نہ کریں۔مجھ کو یہ نہیں لکھا تھا کہ تمہارے ہاں یادتی میں نکاح ہونے کا مجھے الہام ہوا ہے لیکن بعض اپنے احباب کو اس سے بھی مطلع فرمایا کہ دتی میں سادات کے خاندان میں میرا نکاح ہوگا۔پہلے تو میں نے کچھ تامل کیا کیونکہ مرزا صاحب کی عمر زیادہ تھی اور بیوی بچہ موجود تھے اور ہماری قوم کے بھی نہ تھے مگر پھر حضرت مرزا صاحب کی نیکی اور نیک مزاجی پر نظر کر کے جس کا میں دل سے خواہاں تھا میں نے اپنے دل میں مقرر کر لیا کہ اسی نیک مرد سے میں اپنی دختر نیک اختر کا رشتہ کر دوں نیز مجھے دتی کے لوگ اور وہاں کے عادات واطوار بالکل نا پسند تھے اور وہاں کے رسم و رواج سے سخت بیزار تھا اس لئے ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے دعامانگا کرتا تھا کہ میر امربی ومحسن مجھے کوئی نیک اور صالح داماد عطا فرمادے۔یہ دعا میں نے بار بار اللہ تعالیٰ کی جناب میں کی آخر قبول ہوئی اور مجھے ایسا بزرگ صالح متقی خدا کا مسیح و مہدی نبی اللہ و رسول اللہ خاتم الخلفاء اللہ تعالیٰ نے داماد عطا فرمایا جس پر لوگ رشک کریں تو بجا ہے اور میں اگر اس پر فخر کروں تو کچھ بے جانہ ہوگا۔اس نکاح سے چند سال پیشتر میرے گھر میں پانچ بچوں کے مرنے کے بعد ایک لڑکا پیدا ہوکر زندہ رہا جس کا نام محمد اسمعیل رکھا جو اب میر محمد اسمعیل صاحب اسٹنٹ سرجن ہیں۔میں ضلع لاہور سے تبدیل ہو کر پٹیالہ و مالیر کوٹلہ کی طرف گیا وہاں سے چند ماہ کے بعد نقشہ نویس ہو کر ملتان میں پہنچا۔اب زمانہ نے بہت رنگ بدلے اور میرے حال میں کئی تبدیلیاں واقع ہوئیں۔آخر میں ملتان سے فرلور خصت لے کر دتی پہنچا اور اپنی فرمانبردار بیوی کولڑکی کے نکاح کے بارہ میں بہت سمجھا بجھا کر راضی کیا اور سوائے اپنی رفیق بیوی کے اور کسی کو اطلاع نہیں دی اس واسطے کہ ایسانہ ہوکنبہ میں شور پڑ جاوے اور میرا کیا کرایا کام بگڑ جاوے اور میری والدہ صاحبہ و دیگر اقرباء مانع ہوں۔انجام کار ۱۸۸۵ء میں میں نے حضرت مرزا صاحب کو چپکے سے بلا بھیجا اور خواجہ میر درد صاحب کی مسجد میں بیـن الـعـصـر والمغرب اپنی دختر نیک اختر کا حضرت صاحب سے گیارہ سوروپیہ مہر کے بدلے نکاح کر دیا۔نکاح کا خطبہ مولوی نذیر حسین صاحب محدث دہلوی نے پڑھا وہ ڈولی میں بیٹھ کر تشریف لائے تھے کیونکہ ضعف اور بڑھاپے کے باعث چل پھر نہیں سکتے تھے۔عین موقع پر میں نے اپنے اور اپنی بیوی کے رشتہ داروں کو بلایا اس لئے وہ