حیاتِ ناصر

by Other Authors

Page 87 of 104

حیاتِ ناصر — Page 87

حیات ناصر 87 مناجات ناصر فضل کر اس بندہ عاجز پہ اے مرے خدا تو سزاوار کرم ہے میں ہوں بے شک ناسزا میں بلاؤں میں گھرا ہوں میں مصائب میں پھنسا دور کر دے ہر مصیبت ہر بلاء سے تو بچا کر دیا بیماریوں نے میری صحت کو خراب میں مریض ناتواں ہوں ہاتھ میں تیرے شفاء میں ہوں عاصی میں ہوں خاطی تو ہے غفار الذنوب میں گرفتار بلا ہوں تو مرا مشکل کشاء میں ہوں ادنیٰ تو ہے اعلیٰ تو غنی میں ہوں فقیر تو شہنشاہِ دو عالم میں ترا ادنی گدا میں ہوں دست و پا شکستہ تو ہے میرا دستگیر میں ہوں گمراہی میں اے مولیٰ مرا تو رہنما سخت میں ناپاک ہوں اے پاک کر مجھ پر کرم میں بُرا ہوں فضل سے اپنے مرا کر دے بھلا مہربانی مجھ یہ کر الطاف فرما مجھ پر تو تو خفا مجھ سے نہ ہو گو خلق ہے مجھ پر خفا اس شب تاریک غم کو دور کر سر سے میرے اے مرے رب مجھ پہ خوش وقتی کا جلدی دن چڑھا اے میرے داتا مرے ناصر مجھے منصور کر کر میری حاجت روائی اے مرے حاجت روا رکھ مجھے ثابت سدا اسلام پر اے ذوالمنن باب رحمت مجھ پر وا کر دار قربت میں بسا صبر کی جا صبر دے اور شکر کے موقعہ پر شکر دور کر عصیاں سے مجھ کو اپنی جانب تو جھکا دے محبت اپنی اور دنیا سے نفرت دے مجھے دور کر حرص و ہوا اپنا مجھے شیدا بنا بخش نسل پاک مجھ کو کر امام المتقین دے گناہوں سے تنفر دے عبادت میں مزا یاد ہولب پرتری اور دل میں ہو تیرا خیال ہو عیاں پاکیزگی اور دل میں ہووے اتقا با ادب کر با حیاء کر اپنے بندوں میں ملا رحم کی چادر اوڑھا اور فضل کا جامہ پہنا ہو تیری تعظیم بس ہر کام میں پیش نظر شفقت و رحمت کا برتا وا ہو خلقت سے سدا ہر ضعیف و ناتواں کا میں بنوں پشت و پناہ ہر مریض خستہ جاں کی میں کروں دل سے دوا احمدی بھائی مرا کوئی نہ ہو مجھ سے ملول کوئی بھی صالح کبھی مجھ سے نہ ہو ہرگز خفا میں ہوں خدمتگار نیکوں کا بنوں بچوں کا یار ہو نہ تیرے دوستوں سے میرے دل میں کچھ دعا راحت و آرام دوں اپنے ہر اک بھائی کو میں بھائیوں کی میں کروں خدمت وہ دیں مجھ کو دعا