حیاتِ ناصر

by Other Authors

Page 61 of 104

حیاتِ ناصر — Page 61

حیات ناصر 61 مرزا صاحب نے شرقاً غر با مخالفین اسلام کو دعوت اسلام دی اور ایسا نیچا کر دکھایا کہ کوئی مقابل آنے جو گا نہیں رہا۔اکثر نیچریوں کو جو مولوی صاحبان سے ہر گز اصلاح پر نہیں آ سکے توبہ کرائی اور پنجاب سے نیچریت کا اثر بہت کم کر دیا۔اب وہی نیچری ہیں جو مسلمان صورت بھی نہیں تھے مرزا صاحب کے ملنے سے مومن سیرت ہو گئے۔اہلکاروں، تھانہ داروں نے رشوتیں لینی چھوڑ دیں۔نشہ بازوں نے نشے ترک کر دئیے۔کئی لوگوں نے حقہ تک ترک کر دیا۔مرزا صاحب کے شیعہ کے مریدوں نے تیر اترک کر دیا۔صحابہ سے محبت کرنے لگے۔تعزیہ داری ، مرثیہ خوانی موقوف کر دی۔بعض پیرزادے جو مولوی محمد حسین بٹالوی بلکہ محمد اسمعیل شہید کو بھی کافر سمجھتے تھے مرزا صاحب کے معتقد ہونے کے بعد مولا نا اسمعیل شہید کو اپنا پیشوا اور بزرگ سمجھنے لگے۔اگر یہ تاثیریں دجالین، کذابین میں ہوتی ہیں اور نائبین رسول مقبول نیک تا شیروں سے محروم ہیں تو بصد خوشی ہمیں دجالی ہونا منظور ہے۔پھلوں ہی سے تو درخت جانا جاتا ہے اللہ تعالیٰ کو بھی لوگوں نے صفات سے پہچاناور نہ اس کی ذات کسی کو نظر نہیں آتی۔کسی تندرست ہٹے کٹے کا نام اگر بیمار رکھ دیں تو واقعی وہ بیمار نہیں ہو سکتا۔اسی طرح جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مومن پاکباز ہے اور جس کے دل میں اللہ اور رسول کی محبت ہے اس کو کوئی منافق ، کافر ، دجال وغیرہ لقب دے تو کیا حرج ہے۔سفید کسی کے کا لا کہنے سے کالا نہیں ہو سکتا اور چمگادڑ کی دشمنی سے آفتاب لائق مذمت نہیں۔یزیدی عملداری سے حسینی گروہ اگر چہ تکالیف تو پاسکتا ہے مگر نابود نہیں ہوسکتا رفتہ رفتہ تکالیف برداشت کر کے ترقی کریگا اور کرتا جاتا ہے یعنی مولویوں کے سد راہ ہونے سے مرزا صاحب کا گروہ مٹ نہیں سکتا بلکہ ایسا حال ہے جیسا دریا میں بندھ باندھنے سے در پارک نہیں سکتا لیکن چند روز رکا معلوم ہوتا ہے آخر بند ٹوٹے گا اور نہایت زور سے دریا بہ نکلے گا اور آس پاس کے مخالفین کی بستیوں کو بہا لے جائیگا۔آندھی اور اب سورج کو چھپا نہیں سکتے خود ہی چند روز میں گم ہو جاتے ہیں۔اسی طرح چند روز میں یہ نمل غبارہ فرو ہو جائے گا اور مرزا صاحب کی صداقت کا سورج چمکتا ہو انکل آوے گا پھر نیک بخت تو افسوس کر کے مرزا صاحب سے موافق ہو جاویں گے اور پچھلی غلطی پر پچھتاویں گے اور ا اور مرزا صاحب کی کشتی میں جوشل سفینہ نوح علیہ السلام کے ہے سوار ہو جائیں گے لیکن بدنصیب اپنے مولویوں کے مکر اور غلط بیانی کے پہاڑوں پر چڑھ کر جان بچانا چاہیں گے۔مگر ایک ہی موج میں غرق بحر ضلالت ہو کر فنا ہو جاویں گے۔یا الہی ہمیں اپنی پناہ میں رکھ اور فہم کامل عنایت فرما۔امت محمدی کا تو ہی نگہبان ہے حجابوں کو اُٹھا دے۔صداقت کو ظاہر فرما دے۔مسلمانوں کو اختلاف سے راہ راست پر لگادے آمین یارب العالمین۔لے۔یعنی چند مرید مرزا صاحب کے ایسے بھی ہیں جو پہلے شیعہ مذہب رکھتے تھے۔