حیاتِ ناصر — Page 36
حیات ناصر 36 ندارد کسی باتونا گفته کار ولیکن چوگفتی دلیلش بیار قولک۔اب وہ اپنی تحریف قرآنی اور بے موقع تاویل احادیث سے باز آویں۔قیامت آنے والی ہے ابھی تو بہ کا دروازہ کھلا ہے۔اقول۔سول - تحریف کرنا اصل میں یہود کی صفت ہے اور ہمارے ہادی خاتم النبین نے فرمایا ہے کہ آخر زمانہ میں مسلمان یہودی بن جاویں گے جس سے مراد علماء اسلام ہیں کیونکہ جہاں یہود کا ذکر قرآن میں ہے وہاں بھی علماء یہود مراد ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے گدھا بھی فرمایا ہے کیونکہ وہ کتابوں سے لدے ہوئے تھے اور عمل نہیں کرتے تھے۔یہود کی مذمت بطور قصہ کہانی کے نہیں بلکہ بطور پیشگوئی کے ہے کہ جس طرح یہود اپنے آخر زمانہ میں نہایت بگڑ گئے تھے۔اسی طرح مسلمان علماء بھی آخر بگڑ جائیں گے۔جس طرح یہود نے تحریف کی تھی اسی طرح یہودی صفت مسلمان بھی تحریف کریں گے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہود کی ریس میں (ماں) سے بھی زنا کر کے چھوڑیں گے۔سو یہ سب کر تو تیں مولویوں کی ہیں جو قرآن کی نظم کو بگاڑ کرانی متوفیک ورافعک کو آگے پیچھے کر کے حضرت عیسی کو آسمان پر زندہ پہنچاتے ہیں اور رفع کے معنے رفع جسمانی کے کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ اور ہمارے حضرت تو با موقع تاویل احادیث کی فرماتے ہیں مگر تمہارا تو یہ حال ہے کہ مصرعہ خود غلط، املا غلط، انشا غلط۔تقلید کی مار کے سبب سے جو الٹی باتیں ذہن نشین ہو چکی ہیں وہ سیدھی معلوم ہوتی ہیں جو اصلی اور سیدھا راستہ دکھاوے وہ الٹا معلوم ہوتا ہے جیسے بخار والے کا منہ اصل میں کڑوا ہوتا ہے وہ مصری اور شہد کو بھی کڑ وابتا تا ہے اپنے منہ کی خبر نہیں لیکن اصل یہ ہے کہ بیمار کی عقل بھی بیمار ہوتی ہے۔دعوئی اور دلیل میں آج کل کے مولوی فرق نہیں کرتے جب دعوئی پر دلیل مانگو تو ایک اور دعوئی پیش کر دیتے ہیں۔جب اس پر دلیل طلب کرو تو ایک اور دعویٰ پیش کر دیتے ہیں۔اگر تیسری دفعہ بولوتو گالیاں دینے لگتے ہیں۔ہندوؤں کی طرح اوہام میں مبتلا ہو گئے ہیں جب کسی ہندو سے سوال کرو کہ گنگا اور جمنا کا پانی کیوں متبرک سمجھتے ہو اور گنگا میں غوطہ لگانے سے گناہ کس طرح دور ہو جاتے ہیں تو کہتے ہیں کہ گنگا جمنا میں یہی خاصیت ہے اور اگر کہو کہ یہ خاصیت کیوں ہے تو کہتے ہیں کہ ہمارے بزرگ جو فرما گئے ہیں اور اگر کہو کہ تمہارے بزرگ بھی تمہارے جیسے آدمی تھے ممکن ہے کہ انہوں نے غلطی کی ہو تو گالیاں شروع ہو جاتیں اور ہذیان بکتے ہیں اس سے زیادہ بولوتو فوجداری اور پھر کسی نہ کسی کو جیل خانہ کیونکہ جہالت کا نتیجہ تو جیل خانہ ہی ہونا چاہیئے۔مولویوں کو جب کچھ اختیار تھا تو ہزاروں خون کرائے تھے اور آپس کی ضد میں قرآن اور حدیث کو پھونک دیتے تھے۔اب بھی ادنیٰ