حیاتِ ناصر — Page 17
حیات ناصر 17 ہر قسم کی آسانیاں موجود ہیں ہم اس سے قاصر رہیں۔غرض اس قسم کے خیالات نے مجھے ہمیشہ وقتا فوقتا تحریک دلائی ہے اور جو کچھ مجھ سے ہو سکا میں کرتا رہا۔اب میں ان بزرگوں اور دوستوں میں سے سب سے پہلے حضرت میر ناصر نواب صاحب رضی اللہ عنہ کا ذکر خیر کرنا چاہتا ہوں۔کیا اس لئے کہ خدا تعالیٰ نے ان کو وہ عزت اور عظمت دی تھی کہ اب دنیا میں کسی شخص کو نہیں مل سکتی۔خدا تعالیٰ نے محض اپنے فضل و کرم سے یہ مقدر کیا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ ان کو صہری ابوت کا فخر حاصل ہو اور اس طرح پر ان کو ایک امت مسلمہ کا نانا ہونے کا شرف ملے، اور کیا اس لئے کہ ذاتی طور پر ان میں ایسی قربانیاں اور کمالات تھے کہ وہ سلسلہ احمدیہ میں ایک محسن اور واجب الاحترام بزرگ تھے۔ان کی خدمات ان کی قربانی سلسلہ کے لئے کوئی ایسی چیز نہیں کہ وہ میری کسی معرفی کی محتاج ہو وہ اپنے پیچھے اس قدرنمونے اور یادگاریں نیکی کی چھوڑ گئے ہیں کہ ان کو دنیا میں بھی ابدی حیات حاصل ہے۔میری پہلی ملاقات ۱۸۸۹ء میں جبکہ میں لدھیانہ کے میونسپل بورڈ ہائی سکول میں سپیشل کلاس کا طالب علم تھا حضرت میر ناصر نواب صاحب رضی اللہ عنہ سے میری پہلی ملاقات ہوئی۔میری عمر اس وقت ۱۴ سال کی تھی مجھے کوعیسائیوں سے مباحثات کرنے کا شوق تھا۔ان ایام میں جناب مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری اور ان کے برادر معظم حضرت مولوی محمد اسمعیل صاحب رضی اللہ عنہ لدھیانہ میں حضرت مولوی عبد القادر صاحب رضی اللہ عنہ کے اخص تلامذہ میں تھے۔عیسائیوں سے مباحثات کا شوق مجھے شیخ اللہ دیا صاحب جلد ساز کی دکان پر لے گیا جہاں رڈ نصاری کی کتابوں کی ایک عمدہ لائبریری تھی اور اخبار منشور محمدی بنگلور کے فائل موجود تھے ، خود شیخ صاحب اس فن میں کمال رکھتے تھے۔حضرت میر صاحب ان ایام میں لدھیانہ تھے اور روزانہ وہاں تشریف لاتے۔حضرت میر صاحب پکے اور مخلص عامل بالحدیث تھے۔خود شیخ اللہ دیا صاحب بھی اہلحدیث تھے۔میں خودان ایام میں حفی کہلاتا تھا۔ایک شخص حافظ عبدالباقی صاحب ( جو کٹر حنفی تھے ) بھی روزانہ وہاں آتے اور عصر کی نماز کے بعد شیخ اللہ دیا صاحب کی دکان پر ایک اچھا خاصہ مذہبی مجمع ہوا کرتا تھا۔مشن کمپونڈ سے آنے والے پادری اسی راستہ سے گذرتے اور وہاں ضرور ٹھہر جاتے۔کبھی ان سے اور کبھی حضرت میر صاحب اور حافظ صاحب سے مذہبی مذاکرات کا سلسلہ جاری رہتا۔ان مجلسوں کی جب یاد آتی ہے تو عجیب لطف اور سرور طبیعت میں پیدا ہوتا ہے۔غرض انہیں ایام میں