حیاتِ ناصر — Page 16
حیات ناصر 16 لوگ اس سے چکراتے ہیں اور سخت گھبراتے ہیں اللہ تعالیٰ مجھے اور انہیں ہدایت دے جو ان میں سے حقیقی عیب ہے اس سے مجھے پاک کرے آمین۔لوگ بھی بچے ہیں وہ بہ سبب دوری کے میرے اور میرے محبوب کے حالات سے واقف نہیں۔مجھ پر میرا مسیح اس قدر مہربان تھا کہ میری اور اس کی چارپائی میں ایک دیوار فقط حائل ہوا کرتی تھی اور کبھی کبھی رات کو بھی کوئی خواب یا الہام ہوتا تھا تو مجھے بھی سنا دیتے تھے پھر اس کے بعد اور کی نامہربانی کا شکوہ عبث اور پیچ ہے۔اللہ تعالیٰ کے مجھ پر کس قدر احسان ہیں میرے آباء بھی تمام دنیا سے زیادہ معزز وممتاز تھے اور میرا داماد واولاد بھی اس زمانہ کے لوگوں سے کس قدر بلند مرتبہ ہیں اب ان سے کمتر لوگوں کی طرف نظر رکھنا اور ان سے کسی چیز کا آرزومند ہونا اللہ تعالیٰ کی ناشکری نہیں تو اور کیا ہے۔کل دنیا تو خدا کو بھی نہیں مانتی، رسول سے بھی بے پروا ہے، صحابہ واہل بیت کو گالیاں دیتی ہے۔اللہ و بس باقی ہوں۔اب اللہ تعالیٰ سے یہ دعا ہے کہ میرا مولا مجھے سچا ایمان عطا فرما دے اور پکا مسلمان کر کے مارے اور اپنے پاس سے عزت اور جاودانی دولت بخشے آمین۔( یہ دعا قبول ہوگئی عرفانی) ولله العزة ولرسوله وللمومنين ولكن المنافقين لا يعلمون واخر دعوانا ان الحمد لله ربّ العالمين ( ناصر نواب۔قادیان ۲۲ جون ۱۹۱۲ ۶) حضرت میر ناصر نواب صاحب رضی اللہ عنہ کی یہ آٹو بایوگرافی کا نہایت ہی جامع اور مختصر خلاصہ ہے حضرت میر صاحب نے اپنے واقعات زندگی کی کہانی کو اپنی زبانی جس شان سے بیان کیا ہے وہ نہایت مؤثر اور قابل قدر ہے اب ذیل میں میں ان کی سیرت کے بعض حصوں پر بحث کرتا ہوں۔میں نے الحکم میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اصحاب کے عنوان سے ایک سلسلہ مضامین مختلف اوقات میں لکھنا شروع کیا اور بعض دوستوں کے حالات کو میں نے شائع بھی کیا۔میری غرض ہمیشہ یہ رہی کہ ان صالحین کے تذکروں سے آئندہ نسلیں فائدہ اُٹھا ئیں اور ان کے ذکر خیر کے اجرا سے مجھے ثواب ہو اور جن لوگوں سے سالہا سال اور عرصہ دراز کارسمی نہیں بلکہ محبت واخلاص کا تعلق چلا آیا ہے ان کی موت کے ساتھ ہی ہم ان کو بھول نہ جاویں بلکہ ان کی یاد کو تازہ رکھیں تا کہ اس طرح پر پیچھے آنے والی نسلوں کو اپنے بزرگوں کے لئے دعا کی تحریک ہوتی رہے اور ان کی خوبیوں کے اتباع کے لئے ان میں جوش پیدا ہو۔اس خصوص میں جب میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے حالات کے مجموعوں پر نظر کرتا ہوں تو مجھے شرم آجاتی ہے کہ وہ زمانہ جبکہ کاغذ نا پید تھا اور طباعت اور اشاعت کے ذرائع مفقود تھے آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے جاں نثاروں کے حالات زندگی کو اس طرح پر محفوظ کیا گیا اور آج جبکہ