حیاتِ ناصر

by Other Authors

Page 3 of 104

حیاتِ ناصر — Page 3

حیات ناصر 3 فوجوں میں عام سرکشی پھیل گئی اور جابجا سے فوجیں فساد کر کے دلی میں آکر جمع ہو گئیں۔انگریزوں نے بقیہ فوجوں کو جمع کیا اور گورہ فوج کو اطراف سے اکٹھا کر کے وہ بھی برگشتہ فوج کے تعاقب میں دلی میں پہنچے اور دلی کا محاصرہ کر لیا۔دلی کے لوگ حیران و پریشان اور یہ نا گہانی تماشہ جبراً قہر دیکھتے رہے مگر کسی کو اس قدر دسترس نہ تھی کہ اس آتش فساد کو فروکرتا۔پور بنے شہر پر مسلط تھے اور برائے نام بہادر شاہ کو بادشاہ بنا رکھا تھا۔ایک اندھیر پڑا ہوا تھا اور ہر شخص کو اپنی جان و مال کا دغدغہ لگا رہتا تھا۔دن کا چین اور رات کا آرام حرام ہوگیا تھا۔جوں جوں محاصر ہ تنگ ہوتا جاتا تھا توں توں شہر کی آفت بڑھتی جاتی تھی۔شہر پر اس قدر گولے پڑتے تھے کہ فصیل اور متصلہ مکانات چھلنی ہو گئے تھے بعض لوگ گولوں سے ہلاک بھی ہوتے جاتے تھے۔چند ماہ کے محاصرہ کے بعد دلی انگریزوں نے فتح کر لی اور باغی فوج وہاں سے بھاگ گئی۔دلی والوں کی شامت آئی۔" کر گیا داڑھی والا اور پکڑا گیا مونچھوں والا۔نانی نے خصم کیا اورنواسہ پر جرمانہ ہوا۔فتح مندوں نے شہر کو برباد کر دیا اور فتح کے شکریہ میں صدہا آدمیوں کو پھانسی پر چڑھا دیا۔مجرم اور غیر مجرم میں تمیز نہیں تھی۔چھوٹا بڑا ادنی اعلیٰ برباد ہو گیا سوائے چوہڑے چماروں سقوں وغیرہ کے یا ہندؤوں کے خاص محلوں کے کوئی لوٹ مار سے نہیں بچا۔ایک طوفان تھا کہ جس میں کچھ نظر نہیں آتا تھا۔غرض یہ کہ گیہوں کے ساتھ گھن بھی پس گیا شہر کے لوگ ڈر کے مارے شہر سے نکل گئے اور جو نہ نکلے وہ جبر نکالے گئے اور قتل کئے گئے۔یہ عاجز بھی ہمراہ اپنے کنبہ کے دلی دروازہ کی راہ سے باہر گیا۔چلتے وقت لوگوں نے اپنی عزیز چیزیں جن کو اُٹھا سکے ہمراہ لے لیں۔میری والدہ صاحبہ نے اللہ ان کو جنت نصیب کرے میرے والد کا قرآن شریف جواب تک میرے پاس ان کی نشانی موجود ہے اٹھالیا۔شہر سے نکل کر ہمارا قافلہ سر بصحرا چل نکلا اور رفتہ رفتہ قطب صاحب تک جو دلی سے میل پر ایک مشہور خانقاہ ہے جا پہنچا وہاں پہنچ کر ایک دوروز ایک حویلی میں آرام سے بیٹھے رہتے تھے کہ دنیا نے ایک اور نقشہ بدلا۔یکا یک ہارسن صاحب افسر رسالہ مع مختصر ار دل کے قضاء کی طرح ہمارے سر پر آپہنچے اور دروازہ کھلوا کر ہمارے مردوں پر بندوقوں کی ایک باڑہ ماری اور جس کو گولی نہ لگی اس کو تلوار سے قتل کیا۔یہ نہیں پوچھا کہ تم کون ہو ہماری طرف کے ہو یا دشمنوں کے طرفدار ہو۔اسی یک طرفہ لڑائی میں میرے چند عزیز را ہی ملک عدم ہو گئے۔پھر حکم ملا کہ فوراً یہاں سے نکل جاؤ حکم حاکم مرگ مفاجات ہم سب زن و مرد و بچہ اپنے مُردوں کو بے گوروکفن چھوڑ کر رات کے اندھیرے میں حیران و پریشان وہاں سے روانہ ہوئے لیکن بہ سبب رات کے اندھیرے اور سخت واژگوں کی تیرگی کے رات بھر قطب صاحب کی لاٹ کے گرد طواف کرتے رہے۔صبح کو معلوم ہوا کہ تیلی کے بیل کی طرح وہیں کے وہیں